data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: یمن کے نگراں صدر رشاد العلیمی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ بین الاقوامی قانون صرف ایک افسانہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔

عالمی  میڈیا رپورٹس  کے مطابق یمنی صدر  نے کہا کہ آج یمن اور غزہ کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک اخلاقی کسوٹی بن چکی ہے، فلسطینی مسئلہ عرب عوام کا مرکزی مسئلہ ہے اور ایک ایسا زخم ہے جو کئی دہائیوں سے رس رہا ہے۔

یمنی صدر نے اپنے خطاب میں حوثی باغیوں کو انتہا پسند دہشت گرد گروہ  قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کا بحران محض داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اقوام متحدہ کی ساکھ اور عالمی امن کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔

 انہوں نے مزید کہاکہ  یمنی عوام اس وقت دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ سلامتی کے مسائل اب ہماری سرحدوں سے نکل کر پورے خطے اور دنیا تک پھیل گئے ہیں۔

رشاد العلیمی نے الزام عائد کیا کہ حوثیوں کو ایران کی جانب سے ممنوعہ ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یمن کا امن مزید خطرات سے دوچار ہے،  ایک موثر بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا جائے جو یمن میں امن قائم کرے، ریاستی اداروں کی دوبارہ تعمیر کرے اور ملک کو ملیشیاؤں و دہشت گرد گروہوں کے چنگل سے نجات دلائے۔

یاد رہے کہ یمن میں 2014 سے حوثی باغیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے،  حوثی باغی اس وقت ملک کے شمالی حصوں، بشمول دارالحکومت صنعاء پر قابض ہیں، جس کے باعث لاکھوں افراد بے گھر اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں،  اقوام متحدہ یمن کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کرتا ہے جہاں کروڑوں افراد کو خوراک، پانی اور طبی امداد کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن