مغربی کنارے اور اردن کے درمیان مرکزی بارڈر کل کھلنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رام اللہ: فلسطینی اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے کو اردن سے ملانے والا مرکزی بارڈر ایلنبی اورکنگ حسین پل کل بروز جمعہ سے دوبارہ کھول دیا جائے گا جو ایک ہفتے سے زائد عرصے تک بند رہا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق فلسطینی اتھارٹی کے جنرل اتھارٹی برائے کراسنگ اینڈ بارڈرز کے سربراہ ناظمی مہنّا نے کہا کہ پل پر آمدورفت دونوں جانب سے بحال کر دی جائے گی، تاہم شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری اوقات کار سے متعلق اپڈیٹس پر نظر رکھیں۔
اس اعلان پر تاحال اسرائیل کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 18 ستمبر کو مغربی کنارے اور اردن کے اس اہم راستے کو اس وقت بند کر دیا تھا جب ایک فائرنگ کے واقعے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں اسرائیلی آرمی ریڈیو نے منگل کے روز بتایا کہ وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے حکم دیا ہے کہ پل “تاحکم ثانی” بند رہے۔
جمعرات کو فلسطینی وزارتِ قومی معیشت نے متنبہ کیا کہ سرحد کی بندش نے شدید انسانی اور اقتصادی نقصان پہنچایا ہے، جس سے برآمدات، درآمدات اور یہاں تک کہ غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔
وزارت صحت کے مطابق اس بندش کے تسلسل سے فلسطینی صنعت، زراعت، غذائی تحفظ اور افراد کی آزادانہ نقل و حرکت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی یہودی آبادکاروں کی کارروائیوں میں کم از کم 1,044 فلسطینی شہید اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ جولائی میں عالمی عدالت انصاف (ICJ) نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تمام اسرائیلی بستیاں خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
خیال رہےکہ ہے کہ غزہ میں امداد کے نام پر امریکا اور اسرائیل کھلی دہشت گردی کر رہے ہیں۔ نہتے فلسطینی عوام پر بمباری، محاصرے اور مصنوعی قلت کے ذریعے انسانی بحران کو مزید سنگین بنایا جا رہا ہے جبکہ عالمی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور مسلم ممالک بھی بےحسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔