نیتن یاہو کا جنوب مغربی شام کے غیر مسلح کیے جانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
باغی گروپ کے شامی سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی جارحیت سے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر انحصار کرتے ہیں اور ہم 1974 کے معاہدے کی پاسداری کے لیے پرعزم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ شام اور اسرائیلی حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کا مقصد اسرائیل کے مفادات کو یقینی بنانا ہے۔ صیہونی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کے مفادات میں ملک کے جنوب مغرب میں شام کی عبوری حکومت کو غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ دروز کی جانوں کا تحفظ بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ شام پر قابض احمد الشعرع (الجولانی) نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کے بارے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کی طرف سے شام کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے شام کے ساتھ کھڑے ہوں، ہم اسرائیلی جارحیت سے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر انحصار کرتے ہیں اور ہم 1974 کے معاہدے کی پاسداری کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔