امام کعبہ شیخ صالح بن حمید سعودی مفتی اعظم مقرر
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) خانہ کعبہ کے امام شیخ صالح بن حمید کو سعودی عرب کے نیا مفتی اعظم مقرر کردیا گیا ۔ عرب میڈیا کے مطابق خانہ کعبہ کے امام شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید کو سعودی عرب کے نئے مفتی اعظم اور علما کی سینئر کونسل کے سربراہ ہوں گے۔ شاہی عدالت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ تقرر سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے انتقال کے بعد کیا گیا ہے۔ نئے مفتی اعظم خانہ کعبہ کے سابق امام اور ممتاز عالمِ دین ہیں۔ شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید 1949 ء میں سعودی شہر البوکریہ میں پیدا ہوئے، وہ طویل عرصے سے علمی و دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صالح بن حمید مفتی اعظم
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔