data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد میں وفاقی محتسب اعلی کی کھلی کچہری، شہریوں نے سیپکو کے اضافی بلزکی شکایات کے انبار لگا دیے ایکسیئن سیپکو کی عدم موجودگی پر وفاقی محتسب برہم سکھر دفتر طلبی کے احکامات ، ھلی کچہری میں سیپکو ،سوئی گیس ،نیشنل سیونگ سینٹر کی متعلق شکایات پر موقع پر حل کے احکامات جاری۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے ضلع کونسل ہال میں وفاقی محستب اعلیٰ سکھر سید محمود علی شاہ نے ریجنل محتسب اعلیٰ جیکب آباد زاہد برڑو کے ہمراہ کھلی کچہری کرکے شہریوں کے مسائل سنے ،ڈاکٹر سریش کمار،عبدالوحید،نفیس احمد، راجیش کمار،امجد شیخ ،حمید سدہایواورفرخ عدیل و دیگر نے سیپکو کے اضافی بلز کے شکایات کے انبار لگا دیے ۔ایک شہری نے سیپکو شکایتی سیل کے برسوں سے غیر فعال ہونے اور ایکسیئن سیپکو کا دفتر شہر سے باہر ہونے کی شکایات کی جس پر وفاقی محتسب اعلیٰ نے شکایتی سیل فعال کرنے کا حکم دیا، ایکسیئن سیپکو کی عدم موجودگی پر وفاقی محتسب اعلیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سکھر دفتر طلبی کا حکم دیا۔کھلی کچہری میں سیپکو آراو افسر آفتاب کھوسو ،ایس ڈی او علی لاشاری ایل ایس امداد پہنیار ،ایس ایس جی سی کے رفیق ویسر اور نادرا حکام موجود تھے۔ تنویر بروہی اور محمد رمضان نے گیس کے میٹر کی تبدیلی اوراضافی بلز کے متعلق شکایت کی جسے موقع پر حل کرنے کے احکامات دیے گئے، کھلی کچہری 45منٹ تاخیر سے شروع ہوئی جبکہ کھلی کچہری کا مقام بلدیہ آفس رکھا گیا اور انعقاد ضلع کونسل میں کیا گیا جس کی وجہ سے متعدد افراد واپس چلے گئے اور کھلی کچہری میں نہ آسکے۔

 

 

نمائندہ جسارت گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وفاقی محتسب محتسب اعلی کھلی کچہری جیکب ا باد

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی