وفاقی وزرا کے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات ناکام
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد:۔ وفاقی وزرا کے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوگئے۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر امیر مقام اور طارق فضل نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات مان لیے گئے تھے مگر بعد میں ایسی شرائط سامنے لائی گئیں جن کے لیے کابینہ کی منظوری اور آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ آئینی ترمیم سے متعلق امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا ہماری سمجھ سے باہر ہے، جب بات منطقی انجام تک پہنچتی ہے تو نئے مطالبات سامنے آجاتے، حکومت نے دروازے بند نہیں کیے، اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
وفاقی وزرا نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے مگر کسی کو زبردستی کاروبار بند کرانے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ آزاد کشمیر کے عوام لاک ڈاﺅن کی کال مسترد کردیں گے۔ زبردستی دکانیں اور شاہراہیں بند کرانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘