شاہین آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں اہم اعزاز اپنے نام کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر شاہین آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں اہم اعزاز اپنے نام کرلیا۔
بنگلہ دیش کے خلاف ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے سپر فور مرحلے کے اہم میچ میں شاہین آفریدی نے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے نہ صرف بیٹنگ میں برق رفتار 19 رنز بنائے بلکہ پہلے ہی اوور میں وکٹ لینے کی اپنی روایت بھی برقرار رکھی۔
شاہین نے پہلے ہی اسپیل میں بنگلہ دیش کے دو ٹاپ آرڈر بلے بازوں کو پویلین واپس بھیج دیا۔ 17ویں اوور میں شاہین نے بنگلہ دیش کو جیت کے قریب لے جانے والے شمیم حسین کو چلتا کیا اور پاکستان کی جیت کی راہ ہموار کردی۔
انہوں نے چار اوورز میں 17 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔
شاہین آفریدی کو آل راؤنڈ کارکردگی پہ میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جو ان کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دسواں مین آف دی میچ کا ایوارڈ ہے۔
3️⃣-1️⃣7️⃣ and a quick-fire 1️⃣9️⃣ ⚡️@iShaheenAfridi delivers with both bat and ball to claim the player of the match award ????#PAKvBAN | #BackTheBoysInGreen | #AsiaCup2025 pic.
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) September 25, 2025
وہ اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کرنے والے فاسٹ بولر بن گئے ہیں۔
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہین آفریدی ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔