پاکستانی رکشے اب دیگر ممالک میں بھی نظر آئیں گے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تین پہیہ رکشوں کی برآمدات کو مزید تین نئی عالمی منڈیوں تک توسیع دے رہی ہے، جن میں فلپائن، میکسیکو اور افغانستان شامل ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
کارپوریٹ بریفنگ کے دوران کمپنی حکام نے بتایا کہ حالیہ سیلاب نے سپلائی آپریشنز پر بڑا اثر نہیں ڈالا۔ صرف اس وقت تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جب کراچی-لاہور روڈ عارضی طور پر بند ہوا، تاہم یہ مسئلہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہا۔
فی الحال کمپنی چھ ماڈلز مارکیٹ میں پیش کر رہی ہے، جن میں چار ہیول ایچ 6 اور دو جولیون شامل ہیں۔
انتظامیہ نے وضاحت کی کہ چوتھی سہ ماہی میں کم منافع والے ماڈلز کی فروخت بڑھنے کے باعث مارجن کم ہوا، لیکن یہ اب بھی انڈسٹری کی اوسط سے بہتر ہے۔
مزید بتایا گیا کہ بڑھتی ہوئی بکنگز کے نتیجے میں گاڑیوں کی ترسیل کا وقت پہلے کے دو سے تین ماہ کے مقابلے میں بڑھ کر تین سے چار ماہ تک جا پہنچا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔