Jasarat News:
2026-06-03@00:47:25 GMT

غزہ کے سائے میں دنیا: امن معاہدوں سے آگے کی حقیقت

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امن معاہدوں اور عالمی سفارتی کوششوں کے باوجود، مشرقِ وسطیٰ کی فضا اب بھی بارود کے بادلوں سے اٹی ہوئی ہے۔ غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر چکا ہے، خان یونس اور رفح کے اطراف مذاکرات، لاشوں کے تبادلے اور ہتھیار ڈالنے کی خبریں ایک نئے دور کے آغاز یا انجام کا عندیہ دے رہی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی امن کا پیش خیمہ ہے یا ایک نئے تصادم کی تمہید؟ اس تنازعے کی تازہ لہر میں جہاں آبدیدہ مناظر اور زخم ِ انسانی روزِ روشن کی مانند واضح ہو رہے ہیں، وہیں عالمی جغرافیائی سیاست کے نئے متوازی انعکاسات بھی نمودار ہو رہے ہیں۔ غزّہ کی زمینی حقیقت، بین الاقوامی ہنگامی امداد کی روانی، عسکری تصفیہ کے امکانات اور علاقے میں سفارتی حرکاتِ قلب یہ تمام عوامل ایک ساتھ مل کر نہ صرف مقامی بحران کو طول دے رہے ہیں بلکہ خطّے کے مستقبل کے متعلق سوالات کو بھی گہرا کر رہے ہیں۔

سب سے پہلے انسانی پہلو پر نگاہ ڈالیں۔ اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹوں کے مطابق یکم اکتوبر کے بعد سے غزّہ میں امدادی قوافل کی منظوری میں رکاوٹیں واضح ہو چکی ہیں صرف ایک عرصے میں ایک سو سے زائد امدادی درخواستیں مسترد کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں بنیادی ادویہ، خوراک اور طبی سامان کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک صاف اشارہ ہیں کہ جنگی کارروائیوں کے علاوہ رسدی اور لوجسٹک رکاوٹیں بھی انسانی المیے کو گہرا کر رہی ہیں۔ دوسری جانب عسکری میدان میں صورتحال پیچیدہ مگر فیصلہ کن ہے۔ خان یونس اور رفح کے اطراف میں پھنسے ہوئے حماس کے جوانوں کے بارے میں محورِ ثالثت مصر، قطر اور بعض بین الاقوامی طرافوں کی تجویز کردہ ڈیل نے ایک عملی سوال کھڑا کیا ہے: کیا عسکریت پسندوں کی منظم طور پر ہتھیار ڈال کر محفوظ راستے کے ذریعے نکلنے کی طوالت خطے میں پائیدار امن کی شروعات بن سکتی ہے، یا یہ محض وقتی حل ہے جو مستقبل کے شعورِ جنگ کو کمزور کر دے گا؟ صحافی اور سفارتی رپورٹوں کے مطابق مذاکرات میں اس امر کا امکان زیر ِ غور ہے کہ کچھ سو جنگجو ہتھیار ڈال کر دوسرے حصّوں میں منتقل کیے جائیں، البتہ یہ عمل نہایت حساس اور سیاسی دباؤ سے گِھرا ہوا ہے۔ اس پر ایک اخلاقی اور عملی الجھن بھی ہے۔ جب جنگجوؤں کی حوالگی یا جسمانی لاشوں کی تبادلے کی خبریں منظر عام پر آتی ہیں تو یہ انسانی وجدان کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ القسام بریگیڈز کی طرف سے قیدی کی لاش کی حوالگی کا اعلان ایک ایسے سانحے کی یاد دہانی ہے جہاں جنگ، قیدیوں کی تقدیر اور بین الاقوامی قواعد ِ جنگ کا سوال ایک ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے ان معاملات کا حل محض عسکری نہیں، بلکہ انسانی اور قانونی فریم ورک سے بھی جڑا ہوا ہے۔

فلسطینی مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں اور زیتون کے باغات کو نقصان پہنچانے کے واقعات ایک طویل المدتی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ زمین، زراعت اور روزگار پر قبضے کے عمل سے مقامی معاشی ڈھانچے تباہ ہو رہے ہیں، جو بالآخر سماجی تناؤ اور اشتعال کو جنم دیتا ہے۔ زیتون کے درخت صرف زرعی اثاثہ نہیں؛ وہ ثقافتی اور تاریخی شناخت کا حصہ ہیں۔ ان درختوں کی کٹائی یا آگ لگانا محض ایک کرائم نہیں بلکہ ایک قوم کی جڑوں کو مجروح کرنے کے مترادف ہے اور اس کا طویل مدتی اثر خوراک کی خود کفالت، اقتصادی بقا اور دیہی سماجی بندھنوں پر پڑے گا۔ عالمی سفارت کاری کا ایک نیا موڑ بھی اسی دوران دیکھنے میں آیا ہے: قازقستان کا ’ابراہیمی معاہدات‘ میں شمولیت کا فیصلہ نہ صرف خطّے میں اسرائیل کے لیے سفارتی حمایت کی علامت ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے گرد موجود روایتی اتحاد اور مخالفت کی لکیریں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں بین الاقوامی سیاست میں ایک نئی حقیقت جو بعض ریاستوں کو بطور توازن یا مفاداتی تعلقات کی تشکیل میں مواقع فراہم کرتی ہے کے طور پر سامنے آ رہی ہیں، مگر اسی کے ساتھ یہ فلسطینی مسئلے کے حوالے سے عالمی تقسیم کو بھی پیچیدہ بناتی ہیں۔

ان تمام منظرناموں کے تناظر میں چند نکتے واضح طور پر ابھرتے ہیں۔ اولاً، انسانی امداد کے روٹس اور شفافیت پر مشتمل بین الاقوامی معاہدات کو فوراً قابل ِ عمل بنایا جائے اقوامِ متحدہ اور دیگر فلاحی اداروں کو ایسا طریقۂ کار ملنا چاہیے جو سیاسی دباؤ کے بغیر فوری امداد پہنچا سکے۔ ثانیاً، عسکری حل اگرچہ وقتی مقاصد پورے کر سکتے ہیں مگر طویل المدت امن تبھی ممکن ہے جب سیاسی شمولیت، انصاف اور خصوصاً مقامی سماجی و اقتصادی بحالی کو مرکز ِ توجہ بنایا جائے۔ ثالثاً، خطّے میں سفارتی نقل و حرکت، جیسا کہ نئے معاہدات یا قوموں کی شمولیت، مسائل کا حل بھی لا سکتی ہے اور انہیں قومی تشخص اور مقامی مطالبات سے علٰیحدہ بھی کر سکتی ہے اس لیے بین الاقوامی برادری کو توازن اور شفافیت کے ساتھ اپنی پالیسی وضع کرنی ہوگی۔ آئندہ کے امکانات پر نظر دوڑائیں تو ایک حقیقت واضح ہے: اگر امداد کا سلسلہ بحال نہ ہوا، اور اگر زیتون کے باغات، زرعی زمینیں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی جاری رہی تو انسانی بحران مزید سنگین ہوگا خوراک، صحت اور پناہ گاہ کے مسائل طویل عرصے تک خطّے کو عدم استحکام کے دائرے میں بند رکھیں گے۔ دوسری طرف اگر مذاکرات کے ذرائع کو مضبوط، شفاف اور بین الاقوامی مانیٹرنگ کے تحت لایا جائے تو محدود مگر ضروری وقفے اور قیدیوں کے تبادلوں کے ذریعے عارضی ریلیف ممکن ہوسکتا ہے، جو بعد ازاں سیاسی عمل کی راہ ہموار کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک فوجی یا سفارتی مسئلہ نہیں؛ یہ ایک جامع انسانیت، انصاف اور بین الاقوامی ضابطوں کا امتحان ہے۔ جب تک امدادی رسائی کے دروازے کھلے نہیں ہوں گے، اور جب تک مقامی آبادی کی معاشی و سماجی بحالی کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی موجود نہیں ہوگی، خطّہ دیرپا امن کی جانب نہیں بڑھ سکے گا۔ عالمی طاقتیں، علاقائی کھلاڑی اور اقوامِ متحدہ سب کو ایک مشترکہ روئے کار کے تحت انسانی زندگی کی بقا اور قانونی اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھنا ہوگا؛ ورنہ ماضی کے گھاؤ بارہا اسی نسل کے کالبد پر سرایت کرتے رہیں گے۔

 

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی رہی ہیں رہے ہیں

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟