Jasarat News:
2026-07-24@02:56:49 GMT

غزہ کے سائے میں دنیا: امن معاہدوں سے آگے کی حقیقت

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امن معاہدوں اور عالمی سفارتی کوششوں کے باوجود، مشرقِ وسطیٰ کی فضا اب بھی بارود کے بادلوں سے اٹی ہوئی ہے۔ غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر چکا ہے، خان یونس اور رفح کے اطراف مذاکرات، لاشوں کے تبادلے اور ہتھیار ڈالنے کی خبریں ایک نئے دور کے آغاز یا انجام کا عندیہ دے رہی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی امن کا پیش خیمہ ہے یا ایک نئے تصادم کی تمہید؟ اس تنازعے کی تازہ لہر میں جہاں آبدیدہ مناظر اور زخم ِ انسانی روزِ روشن کی مانند واضح ہو رہے ہیں، وہیں عالمی جغرافیائی سیاست کے نئے متوازی انعکاسات بھی نمودار ہو رہے ہیں۔ غزّہ کی زمینی حقیقت، بین الاقوامی ہنگامی امداد کی روانی، عسکری تصفیہ کے امکانات اور علاقے میں سفارتی حرکاتِ قلب یہ تمام عوامل ایک ساتھ مل کر نہ صرف مقامی بحران کو طول دے رہے ہیں بلکہ خطّے کے مستقبل کے متعلق سوالات کو بھی گہرا کر رہے ہیں۔

سب سے پہلے انسانی پہلو پر نگاہ ڈالیں۔ اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹوں کے مطابق یکم اکتوبر کے بعد سے غزّہ میں امدادی قوافل کی منظوری میں رکاوٹیں واضح ہو چکی ہیں صرف ایک عرصے میں ایک سو سے زائد امدادی درخواستیں مسترد کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں بنیادی ادویہ، خوراک اور طبی سامان کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک صاف اشارہ ہیں کہ جنگی کارروائیوں کے علاوہ رسدی اور لوجسٹک رکاوٹیں بھی انسانی المیے کو گہرا کر رہی ہیں۔ دوسری جانب عسکری میدان میں صورتحال پیچیدہ مگر فیصلہ کن ہے۔ خان یونس اور رفح کے اطراف میں پھنسے ہوئے حماس کے جوانوں کے بارے میں محورِ ثالثت مصر، قطر اور بعض بین الاقوامی طرافوں کی تجویز کردہ ڈیل نے ایک عملی سوال کھڑا کیا ہے: کیا عسکریت پسندوں کی منظم طور پر ہتھیار ڈال کر محفوظ راستے کے ذریعے نکلنے کی طوالت خطے میں پائیدار امن کی شروعات بن سکتی ہے، یا یہ محض وقتی حل ہے جو مستقبل کے شعورِ جنگ کو کمزور کر دے گا؟ صحافی اور سفارتی رپورٹوں کے مطابق مذاکرات میں اس امر کا امکان زیر ِ غور ہے کہ کچھ سو جنگجو ہتھیار ڈال کر دوسرے حصّوں میں منتقل کیے جائیں، البتہ یہ عمل نہایت حساس اور سیاسی دباؤ سے گِھرا ہوا ہے۔ اس پر ایک اخلاقی اور عملی الجھن بھی ہے۔ جب جنگجوؤں کی حوالگی یا جسمانی لاشوں کی تبادلے کی خبریں منظر عام پر آتی ہیں تو یہ انسانی وجدان کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ القسام بریگیڈز کی طرف سے قیدی کی لاش کی حوالگی کا اعلان ایک ایسے سانحے کی یاد دہانی ہے جہاں جنگ، قیدیوں کی تقدیر اور بین الاقوامی قواعد ِ جنگ کا سوال ایک ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے ان معاملات کا حل محض عسکری نہیں، بلکہ انسانی اور قانونی فریم ورک سے بھی جڑا ہوا ہے۔

فلسطینی مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں اور زیتون کے باغات کو نقصان پہنچانے کے واقعات ایک طویل المدتی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ زمین، زراعت اور روزگار پر قبضے کے عمل سے مقامی معاشی ڈھانچے تباہ ہو رہے ہیں، جو بالآخر سماجی تناؤ اور اشتعال کو جنم دیتا ہے۔ زیتون کے درخت صرف زرعی اثاثہ نہیں؛ وہ ثقافتی اور تاریخی شناخت کا حصہ ہیں۔ ان درختوں کی کٹائی یا آگ لگانا محض ایک کرائم نہیں بلکہ ایک قوم کی جڑوں کو مجروح کرنے کے مترادف ہے اور اس کا طویل مدتی اثر خوراک کی خود کفالت، اقتصادی بقا اور دیہی سماجی بندھنوں پر پڑے گا۔ عالمی سفارت کاری کا ایک نیا موڑ بھی اسی دوران دیکھنے میں آیا ہے: قازقستان کا ’ابراہیمی معاہدات‘ میں شمولیت کا فیصلہ نہ صرف خطّے میں اسرائیل کے لیے سفارتی حمایت کی علامت ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے گرد موجود روایتی اتحاد اور مخالفت کی لکیریں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں بین الاقوامی سیاست میں ایک نئی حقیقت جو بعض ریاستوں کو بطور توازن یا مفاداتی تعلقات کی تشکیل میں مواقع فراہم کرتی ہے کے طور پر سامنے آ رہی ہیں، مگر اسی کے ساتھ یہ فلسطینی مسئلے کے حوالے سے عالمی تقسیم کو بھی پیچیدہ بناتی ہیں۔

ان تمام منظرناموں کے تناظر میں چند نکتے واضح طور پر ابھرتے ہیں۔ اولاً، انسانی امداد کے روٹس اور شفافیت پر مشتمل بین الاقوامی معاہدات کو فوراً قابل ِ عمل بنایا جائے اقوامِ متحدہ اور دیگر فلاحی اداروں کو ایسا طریقۂ کار ملنا چاہیے جو سیاسی دباؤ کے بغیر فوری امداد پہنچا سکے۔ ثانیاً، عسکری حل اگرچہ وقتی مقاصد پورے کر سکتے ہیں مگر طویل المدت امن تبھی ممکن ہے جب سیاسی شمولیت، انصاف اور خصوصاً مقامی سماجی و اقتصادی بحالی کو مرکز ِ توجہ بنایا جائے۔ ثالثاً، خطّے میں سفارتی نقل و حرکت، جیسا کہ نئے معاہدات یا قوموں کی شمولیت، مسائل کا حل بھی لا سکتی ہے اور انہیں قومی تشخص اور مقامی مطالبات سے علٰیحدہ بھی کر سکتی ہے اس لیے بین الاقوامی برادری کو توازن اور شفافیت کے ساتھ اپنی پالیسی وضع کرنی ہوگی۔ آئندہ کے امکانات پر نظر دوڑائیں تو ایک حقیقت واضح ہے: اگر امداد کا سلسلہ بحال نہ ہوا، اور اگر زیتون کے باغات، زرعی زمینیں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی جاری رہی تو انسانی بحران مزید سنگین ہوگا خوراک، صحت اور پناہ گاہ کے مسائل طویل عرصے تک خطّے کو عدم استحکام کے دائرے میں بند رکھیں گے۔ دوسری طرف اگر مذاکرات کے ذرائع کو مضبوط، شفاف اور بین الاقوامی مانیٹرنگ کے تحت لایا جائے تو محدود مگر ضروری وقفے اور قیدیوں کے تبادلوں کے ذریعے عارضی ریلیف ممکن ہوسکتا ہے، جو بعد ازاں سیاسی عمل کی راہ ہموار کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک فوجی یا سفارتی مسئلہ نہیں؛ یہ ایک جامع انسانیت، انصاف اور بین الاقوامی ضابطوں کا امتحان ہے۔ جب تک امدادی رسائی کے دروازے کھلے نہیں ہوں گے، اور جب تک مقامی آبادی کی معاشی و سماجی بحالی کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی موجود نہیں ہوگی، خطّہ دیرپا امن کی جانب نہیں بڑھ سکے گا۔ عالمی طاقتیں، علاقائی کھلاڑی اور اقوامِ متحدہ سب کو ایک مشترکہ روئے کار کے تحت انسانی زندگی کی بقا اور قانونی اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھنا ہوگا؛ ورنہ ماضی کے گھاؤ بارہا اسی نسل کے کالبد پر سرایت کرتے رہیں گے۔

 

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی رہی ہیں رہے ہیں

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا