لاہور:

تھانہ گڑھی شاہو پولیس نے مبینہ گن پوائنٹ ڈکیتی کا ڈراپ سین کرتے ہوئے جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق ملزم اسامہ نے 15 پر کال کر کے اطلاع دی تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے گن پوائنٹ پر ساڑھے 8 لاکھ روپے اور ایک آئی فون چھین لیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کی CCTV فوٹیجز حاصل کیں جن میں کوئی ڈکیتی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ واردات کا ماسٹر مائنڈ خود اسامہ ہی ہے، جس نے ساڑھے 8 لاکھ روپے خردبرد کرنے کے لیے ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا۔


پولیس کے مطابق اسامہ نجی فیکٹری میں ملازم تھا اور مالک نے اسے ساڑھے 8 لاکھ روپے بینک میں جمع کروانے کے لیے دیے تھے۔ ملزم نے رقم چھپا دی اور واردات کا جھوٹا ڈرامہ کرنے کے لیے 15 پر کال کر دی۔

گڑھی شاہو پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور فوٹیجز کی مدد سے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ملزم کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے ساڑھے 8 لاکھ روپے نقدی اور آئی فون برآمد کرلیا۔

ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی کے مطابق برآمد شدہ رقم اور موبائل فون مالک کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ایس پی سول لائنز نے ایس ایچ او گڑھی شاہو اور پولیس ٹیم کی شاندار کارکردگی پر تعریفی اسناد دینے کا اعلان بھی کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ساڑھے 8 لاکھ روپے ڈکیتی کا

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا