کوئٹہ:

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے ڈائریکٹر جنرل عبدالواحد کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بی بی آئی ایس ای) کوئٹہ کے آئی ٹی ونگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے امتحانی نتائج میں جعلسازی اور ریکارڈ ٹمپرنگ کے الزامات پر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

انکوائری سے کرپشن اختیارات کے ناجائز استعمال، اور ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (ایچ ایس ایس سی) سالانہ و ضمنی امتحانات 2024 کے نتائج میں غیر قانونی ردوبدل کے شواہد ملے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن عبدالواحد کاکڑ نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے تحت صوبے سے بدعنوانی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ کرپشن تعلیمی نظام کے لیے زہر قاتل ہے اور ہم ہر سطح پر اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

 تحقیقات کے مطابق قابل اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات پر انکوائری شروع کی گئی، جس میں بورڈ کے آئی ٹی ونگ کے بعض افسران اور اہلکاروں کی کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور امتحانی ریکارڈ میں ہیرا پھیری کا انکشاف ہوا۔

امیدواروں کے نمبروں میں غیر قانونی تبدیلی، ڈی ایم سی ڈیٹیلڈ مارکس سرٹیفکیٹ میں ردوبدل اور آئی ٹی سسٹم تک غیر مجاز رسائی کے ذریعے ریکارڈ ٹمپرنگ کی گئی۔

 ایوارڈ لسٹس اور جاری شدہ ڈی ایم سی میں واضح تضادات پائے گئے جو مبینہ طور پر مالی فوائد، اقربا پروری اور ذاتی مفادات کے لیے کیے گئے، ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے انکشاف ہوا کہ محمد اویس سسٹم اینالسٹ اور وسیم نور کمپیوٹر پروگرامر نے سپر ایڈمن آئی ڈی کا غلط استعمال کرتے ہوئے نتائج کے اعلان سے قبل کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں ردوبدل کیا۔

 ان اقدامات کو بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کے تحت سنگین بدعنوانی اور پاکستان پینل کوڈ 1860 کی دفعات 109، 408، 409، 420، 467، 468، 471 بمعہ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت قابل سزا جرائم قرار دیا گی۔

اینٹی کرپشن ٹیم کے مطابق شواہد سے ثابت ہوا کہ محمد اویس اور وسیم نور براہ راست کرپشن اور ریکارڈ ٹمپرنگ میں ملوث تھے، ڈائریکٹر جنرل عبدالواحد کاکڑ کی منظوری سے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

 ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ ہمارا مقصد تعلیمی اداروں سے کرپشن کا خاتمہ اور طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے، بدعنوانی کسی بھی شکل میں برداشت نہیں کی جائے گی۔بی بی آئی ایس ای انتظامیہ نے تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے جبکہ بورڈ کے چیئرمین نے متاثرہ طلبہ کو انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے یہ کارروائی بلوچستان میں تعلیمی اداروں میں بدعنوانی کے خاتمے کی جانب اہم قدم ہے مزید تفصیلات اور گرفتاریوں کی اطلاعات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن کے لیے

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی