بلوچستان اسمبلی میں گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی نے گوادر کی عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔
جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن (ر)عبد الخالق اچکزئی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی جانب سے گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ گوادر ایک ابھرتا ہوا بین الاقوامی شہر ہے اور گوادر پورٹ کو سی پیک کا ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہر کے باسی بنیادی سہولت، خصوصا پانی جیسی اہم ضرورت سے محروم ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں تقریبا 18 ارب روپے پانی کے منصوبوں پر خرچ ہوئے، لیکن کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا گیا۔ قرارداد میں سفارش کی گئی کہ گوادر کے عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے تاکہ درینہ مسئلہ حل ہوسکے۔
مولانا ہدایت الرحمن نے قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اخراجات کے بجائے مستقل نوعیت کے منصوبوں پر توجہ دی جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور بلیدی نے کہا کہ گوادر میں روزانہ 30 لاکھ گیلن پانی کی ضرورت ہے، ڈیم بنائے گئے ہیں اور امید ہے کہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پائپ لائن خستہ حال ہے، تاہم میرانی ڈیم سے پانی لاکر عوام کو فراہم کیا جائے گا۔
بعد ازاں ایوان نے گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی مورخہ 29 ستمبر سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔