ایرانی جاسوس بننے کے لیے اسرائیلیوں کو فون پر آفرز آنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اسرائیل کی نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ نے ہفتے کے روز بتایا کہ وہ اسرائیلی شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کی تحقیقات کر رہی ہے، جن میں انہیں عبرانی زبان میں ریکارڈ شدہ پیغامات کے ساتھ کالز کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں ایرانی ایجنٹوں کے طور پر بھرتی کیا جا سکے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مقامی خبر رساں ادارے وائی نیٹ کی رپورٹ کہتی ہے، ان ریکارڈنگز میں سے ایک کا دعویٰ تھا کہ یہ کال ایرانی انٹیلی جنس کی طرف سے کی گئی ہے اور ایجنٹ بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ریکارڈنگ میں یہ الفاظ شامل تھے، ’ایرانی انٹیلی جنس سرکاری ایجنٹوں کی تلاش میں ہے۔ پرکشش تنخواہ اور جامع سیکیورٹی، ہمیں ٹیلی گرام اور انٹرنیٹ پر تلاش کریں۔‘
ایک گمنام شخص نے بھی وائی نیٹ کو بتایا کہ اسے اور اس کی اہلیہ کو کال موصول ہوئی جس میں انہیں ایران کے لیے ایجنٹ بننے پر مالی معاوضے کی پیشکش کی گئی۔
ان بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر، نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’03-6817‘ اور ’03-3067‘ سے شروع ہونے والے نمبروں سے آنے والی کالز کا جواب نہ دیں اور اگر غلطی سے کال اٹھا لی جائے تو فوراً منقطع کر دیں۔ تاہم، سائبر ڈائریکٹوریٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ محض کال کا جواب دینے سے فون کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
اسرائیلی پولیس نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ جن لوگوں کو یہ کالز موصول ہوئی ہیں وہ فوری طور پر اس نمبر کو بلاک کریں اور فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں۔
قومی سائبر حکام کے مطابق، گزشتہ دو برسوں میں متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ایرانی ایجنٹس نے اسرائیلی شہریوں کو سوشل میڈیا خصوصاً ٹیلیگرام کے ذریعے بھرتی کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ عام طور پر یہ بھرتی معصوم نوعیت کے کاموں سے شروع ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ سنگین نوعیت کے جرائم مثلاً حساس معلومات اکٹھی کرنے یا قاتلانہ منصوبوں تک جا پہنچتی ہے۔
عموماً یہ ایجنٹس عام شہری ہوتے ہیں جن سے ایرانی انٹیلی جنس افسران آن لائن رابطہ کرتے ہیں۔ ایرانی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اسرائیل نے حیفا کی ڈامون جیل میں ان کے لیے علیحدہ ونگ بھی قائم کر دیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔