19ویں صدی میں رحیم یار خان میں بننے والا ریلوے اسٹیشن اب کس حال میں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
انگریزوں کے دور میں برصغیر کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے کے لیے ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کیا گیا، اس منصوبہ کے مطابق خان پور سے چاچڑاں شریف تک ریلوے لائن بنائی گئی جس کا افتتاح سر ویلم رابرٹ نے 28 جولائی 1911 میں کیا۔
یہ ریلوے لائن قریباً 40 کلومیٹر طویل تھی، اس پر خان پور، کوٹلہ پٹھان، ججہ عباسیاں، ظاہر پیر اور چاچڑاں شریف کے اسٹیشن بنائے گئے تھے اور ان ریلوے اسٹیشنز کے آس پاس بڑی تعداد میں سایہ دار درخت بھی لگائے گئے جو اب بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: ماہرین آثار قدیمہ نے یورپ کی سب سے بڑی اجتماعی قبر دریافت کر لی
کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ انگریزوں کی جانب سے یہ ریلوے لائن بلوچستان کو ملانے کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن بدقسمتی سے یہ منصوبہ انگریزوں کے دور میں مکمل نہ ہو سکا۔
نواب آف بہاولپور کے دور میں ججہ عباسیاں اور چاچڑاں شریف کے ریلوے اسٹیشن کا شمار شاہی ریلوے اسٹیشنز میں ہوتا تھا۔ ججہ عباسیاں میں نواب آف بہاولپور کا محل تھا، محل سے کچھ فاصلے پر ایک جھیل تھی جسے ڈھنڈ گاگڑی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر برصغیر کے راجے مہاراجے اور وائسرائے ہند نواب آف بہاولپور کے ساتھ شکار کے لیے آتے تھے۔
اس کے بعد شاہی مہمان اور نواب آف بہاولپور ججہ عباسیاں ریلوے اسٹیشن سے چاچڑاں شریف سے دریائے سندھ کی سیر کو جاتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد خان پور سے چاچڑاں شریف چلنے والی ٹرین ایک منافع بخش تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹرینوں کی تعداد میں کمی کردی گئی اور 1997 میں خان پور سے چاچڑاں شریف جانے والی ٹرینیں نقصان دیکھا کر بند کر دی گئیں۔
2008 میں اس ریلوے لائن کو بھی فروخت کردیا گیا جس سے شاہی اسٹیشن بھی بند ہو گئے اور اب ان شاہی اسٹیشن کو کسی نے گودام بنا دیا ہے تو کسی نے ہوٹل۔
سرائیکی دانشور اور تاریخ دان مجاہد جتوئی کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے اسٹیشن تاریخی اور ثقافتی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت نے ریلوے لائن کی بحالی کے بجائے ان ریلوے اسٹیشنز کو کرایہ پر دے دیا ہے، جس سے ان تاریخی ریلوے اسٹیشنز کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ خان پور سے چاچڑاں شریف تک ریلوے لائن کو بحال کیا جائے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں واقع قدیم آثار، خطے کے شاندار ماضی کے آئینہ دار
تاریخ دان جام عقیل اظہر کا کہنا ہے ججہ عباسیاں اور چاچڑاں شریف برصغیر کے راجوں اور مہاراجوں کی سیر و تفریح کا مرکز تھا۔ یہ شاہی مہمان نواب آف بہاولپور کی خصوصی دعوت پر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وائسرائے ہند ججہ عباسیاں اور چاچڑاں شریف نواب آف بہاولپور کی دعوت پر آئے تھے۔ مزید جانیے نذر عباس کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انگریز دور تاریخ ججہ عباسیاں چاچڑاں شریف ریلوے اسٹیشن مؤرخین وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تاریخ ججہ عباسیاں ریلوے اسٹیشن وی نیوز نواب آف بہاولپور ریلوے اسٹیشنز ریلوے اسٹیشن ججہ عباسیاں ریلوے لائن کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :