انگریزوں کے دور میں برصغیر کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے کے لیے ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کیا گیا، اس منصوبہ کے مطابق خان پور سے چاچڑاں شریف تک ریلوے لائن بنائی گئی جس کا افتتاح سر ویلم رابرٹ نے 28 جولائی 1911 میں کیا۔

یہ ریلوے لائن قریباً 40 کلومیٹر طویل تھی، اس پر خان پور، کوٹلہ پٹھان، ججہ عباسیاں، ظاہر پیر اور چاچڑاں شریف کے اسٹیشن بنائے گئے تھے اور ان ریلوے اسٹیشنز کے آس پاس بڑی تعداد میں سایہ دار درخت بھی لگائے گئے جو اب بھی موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ماہرین آثار قدیمہ نے یورپ کی سب سے بڑی اجتماعی قبر دریافت کر لی

کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ انگریزوں کی جانب سے یہ ریلوے لائن بلوچستان کو ملانے کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن بدقسمتی سے یہ منصوبہ انگریزوں کے دور میں مکمل نہ ہو سکا۔

نواب آف بہاولپور کے دور میں ججہ عباسیاں اور چاچڑاں شریف کے ریلوے اسٹیشن کا شمار شاہی ریلوے اسٹیشنز میں ہوتا تھا۔ ججہ عباسیاں میں نواب آف بہاولپور کا محل تھا، محل سے کچھ فاصلے پر ایک جھیل تھی جسے ڈھنڈ گاگڑی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر برصغیر کے راجے مہاراجے اور وائسرائے ہند نواب آف بہاولپور کے ساتھ شکار کے لیے آتے تھے۔

اس کے بعد شاہی مہمان اور نواب آف بہاولپور ججہ عباسیاں ریلوے اسٹیشن سے چاچڑاں شریف سے دریائے سندھ کی سیر کو جاتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد خان پور سے چاچڑاں شریف چلنے والی ٹرین ایک منافع بخش تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹرینوں کی تعداد میں کمی کردی گئی اور 1997 میں خان پور سے چاچڑاں شریف جانے والی ٹرینیں نقصان دیکھا کر بند کر دی گئیں۔

2008 میں اس ریلوے لائن کو بھی فروخت کردیا گیا جس سے شاہی اسٹیشن بھی بند ہو گئے اور اب ان شاہی اسٹیشن کو کسی نے گودام بنا دیا ہے تو کسی نے ہوٹل۔

سرائیکی دانشور اور تاریخ دان مجاہد جتوئی کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے اسٹیشن تاریخی اور ثقافتی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت نے ریلوے لائن کی بحالی کے بجائے ان ریلوے اسٹیشنز کو کرایہ پر دے دیا ہے، جس سے ان تاریخی ریلوے اسٹیشنز کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ خان پور سے چاچڑاں شریف تک ریلوے لائن کو بحال کیا جائے۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں واقع قدیم آثار، خطے کے شاندار ماضی کے آئینہ دار

تاریخ دان جام عقیل اظہر کا کہنا ہے ججہ عباسیاں اور چاچڑاں شریف برصغیر کے راجوں اور مہاراجوں کی سیر و تفریح کا مرکز تھا۔ یہ شاہی مہمان نواب آف بہاولپور کی خصوصی دعوت پر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وائسرائے ہند ججہ عباسیاں اور چاچڑاں شریف نواب آف بہاولپور کی دعوت پر آئے تھے۔ مزید جانیے نذر عباس کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انگریز دور تاریخ ججہ عباسیاں چاچڑاں شریف ریلوے اسٹیشن مؤرخین وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تاریخ ججہ عباسیاں ریلوے اسٹیشن وی نیوز نواب آف بہاولپور ریلوے اسٹیشنز ریلوے اسٹیشن ججہ عباسیاں ریلوے لائن کے لیے

پڑھیں:

نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔

پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔

رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔


متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی