وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی ساتھی اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے سربراہ رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ آئی ایس ائی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان سے رابطہ کرکے آرمی چیف بنانے کی درخواست کی تھی۔

سینئر صحافی عمار مسعود سے ایک انٹرویو کے دوران رانا مشہود نے بتایا کہ فیض حمید نے ان سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر مسلم لیگ نواز انہیں آرمی چیف بنا دے تو جو 2018 میں انہوں نے عمران خان کے لیے کیا تھا اس سے 10 گنا زیادہ وہ ہمارے لیے کریں گے۔

رانا مشہود نے کہا کہ عمران خان کو لانے اور نواز لیگ کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے فیض حمید ماسٹر مائنڈ تھا اور عمران خان اور فیض حمید دونوں نے مل کر 2033 تک اقتدار میں رہنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

مزید پڑھیں:شہباز گل نے عمران خان کے 2 موبائل چوری کرکے جنرل فیض حمید کو دیے، شیر افضل مروت کا الزام

رانا مشہود کے مطابق آج بھی کچھ اداروں میں ان کی باقیات موجود ہیں، اور ملک پر مسلط کی جانے والی ’ففتھ جنریشن وار‘ کے پیچھے کردار بھی وہی تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد نوجوانوں کو مایوس اور بدظن کرنا تھا، لیکن آج کے حالات اس کے برعکس ہیں اور نوجوان ایک بار پھر روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

رانا مشہود نے کہا کہ شہباز شریف پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہوں گے جو اپنی مدت پوری کریں گے۔ شہباز شریف محنت کر رہے ہیں، وہ اپنے وزرا اور مشیروں سے کام اور نتائج مانگتے ہیں۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مابین سیلاب زدگان کی مدد کے نظام کے متعلق جاری حالیہ تنازع پر بات کرتے ہوئے رانا مشہور نے کہا کہ وہ بنیادی طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے لوگ بھکاری بن رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: شہادتوں کا معیار جنرل فیض حمید کی قسمت کا فیصلہ کرےگا، کرنل انعام الرحیم

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت لوگوں کی مدد کے لیے اپنا بجٹ استعمال کر رہی ہے اور 18ویں ترمیم کے بعد ہر صوبے کو ان کاموں کے اختیارات ملے ہوئے ہیں۔ ہمیں لوگوں کو روزگار دینا چاہیے، نہ کہ گھر بیٹھے وہ پیسے لیتے رہے۔

رانا مشہود کا کہنا تھا کہ مریم نواز انتھک محنت کرنے والی خاتون ہیں جن کے تمام منصوبے عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں وہ خود متاثرین کے درمیان پہنچیں اور براہِ راست کام کیا۔

مریم نواز نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف نواز شریف کی بیٹی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر لیڈر ہیں اور مستقبل میں پارٹی کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے 2013 میں قائم کیے گئے اس ادارے کی پہلی سربراہ بھی مریم نواز تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت تعلیم کے شعبے میں اسکالرشپس اور آن لائن کورسز دستیاب ہیں۔

مزید پڑھیں:جنرل فیض حمید کی صحافی ابصار عالم سے مبینہ ٹیلی فونک گفتگو لیک

رانا مشہور نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے ’ڈیجیٹل یوتھ ہب‘ بنایا گیا ہے جس پر دنیا بھر کے اسکالرشپس، کورسز اور ملازمتوں کی تفصیلات موجود ہیں۔

یہ پورٹل اے آئی سے منسلک ہے اور نوجوانوں کو ان کی تعلیم اور مہارت کے مطابق مواقع تجویز کرتا ہے۔ آج تک 6 لاکھ سے زائد نوجوان اس پر رجسٹر ہو چکے ہیں اور 20 لاکھ سے زائد ڈاؤن لوڈز ہو چکے ہیں۔

رانا مشہود نے بتایا کہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے اندرون اور بیرونِ ملک لاکھوں ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہیں۔ صرف سعودی عرب آئندہ 3 سال میں 12 لاکھ پاکستانی ورکرز منگوانا چاہتا ہے، جبکہ جاپان میں 7 لاکھ سے زائد افراد کے لیے مواقع ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف اس سال 8 لاکھ سے زائد نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جا چکا ہے اور ہدف ہے کہ دسمبر تک یہ تعداد 15 لاکھ تک پہنچ جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک صرف پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ دیے جا چکے ہیں اور اس کی ایک نئی اسکیم دوبارہ جلد شروع ہو رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنرل فیض حمید رانا مشہود وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم یوتھ پروگرام.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جنرل فیض حمید رانا مشہود وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم یوتھ پروگرام جنرل فیض حمید رانا مشہود نے لاکھ سے زائد نوجوانوں کو نے بتایا کہ شہباز شریف پروگرام کے نے کہا کہ انہوں نے ہیں اور تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران