دورانِ مون سون ملک میں معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ، آئندہ موسم کی بھی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد:
جون، جولائی اور اگست میں ملک کے زیادہ تر حصوں میں معمول یا معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
مون سون میں 10 کے قریب بارش کے اسپیل آئے جس کے باعث شمالی اور مشرقی علاقوں میں سیلاب آیا جس سے سنگین صورتحال پیدا ہوئی۔
آئندہ موسم میں گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی پنجاب میں معمول سے کم بارش کا امکان ہے جبکہ سندھ، جنوبی بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں معمول کے قریب بارش متوقع ہیں، جس سے صورتحال مستحکم رہے گی۔
اسی طرح، آئندہ موسم میں ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی ہے جس کے باعث زیادہ گرمی کا خدشہ ہے۔
بارانی علاقوں میں پانی کی کمی ہوگی لہٰذا کسان تکمیلی آب پاشی پر انحصار بڑھائیں۔ ربیع کی فصلوں کی بوائی سے قبل مٹی میں نمی کو یقینی بنائیں، پی ایم ڈی سے زرعی مشاورت حاصل کریں۔
سیلاب متاثرہ علاقوں میں فوری بوائی سے گریز کریں، کھیتوں کو خشک ہونے کا وقت دیں۔
ڈینگی کا خطرہ
اکتوبر اور نومبر میں مرکزی اور جنوبی شہروں میں ڈینگی پھیلنے کا ماحول سازگار ہو سکتا ہے۔ موسم کے آخر میں طویل خشک سالی سے میدانی علاقوں میں دھند اور اسموگ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے ہدایت کی ہے کہ عوام موسم کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معمول سے زیادہ علاقوں میں میں معمول
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔