پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھنے والی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر دونوں جماعتوں کے سینیئر رہنماؤں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔

ملاقات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہوئی، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینیٹر رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شرکت کی، جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: آپ ہماری بہن اور بیٹی ہیں، اپنا لہجہ درست کریں، قمر زمان کائرہ کا مریم نواز کو مشورہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس موقع پر نوید قمر نے اسحاق ڈار کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز تک یہ پیغام پہنچایا کہ انہیں اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے رانا ثنااللہ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر سخت زبان استعمال کی گئی تو جواب بھی اسی انداز میں دیا جائے گا۔

دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے باہمی مسائل کو افہام و تفہیم اور سنجیدہ مشاورت کے ذریعے حل کرنے پر مکمل اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تلخ بیانات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنماؤں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کیا جانا چاہیے، اور وفاقی حکومت کی اس ضمن میں غفلت افسوسناک ہے۔

پیپلز پارٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو عالمی سطح پر سیلاب متاثرین کے لیے امداد کی اپیل کرنی چاہیے۔

اس کے ردعمل میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آباد میں ایک خطاب کے دوران کہاکہ انہیں عوام کی خدمت کے لیے کسی کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہے، اور اب بھیک مانگنے کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔

مریم نواز نے مزید کہاکہ جب پنجاب اپنے حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو دوسروں کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ اگر پنجاب اپنے حصے کا پانی اور وسائل حاصل کرنا چاہے تو اس پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: ہر چیز کا علاج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں، اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، وزیراعلیٰ مریم نواز

انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کو متنازع بنانے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے، اور پنجاب کے عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بات چیت بلاول بھٹو پیپلزپارٹی سیاسی کشیدگی مریم نواز مسلم لیگ ن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بات چیت بلاول بھٹو پیپلزپارٹی سیاسی کشیدگی مریم نواز مسلم لیگ ن وی نیوز انکم سپورٹ پروگرام پیپلز پارٹی مریم نواز مسلم لیگ کے ذریعے کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم