پیپلز پارٹی کا مریم نواز سے متنازع بیانات پر معافی اور وضاحت کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اُن سے بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا ۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پنجاب سے متعلق جو ریمارکس دیے گئے، وہ غیر ضروری، نامناسب اور وفاقی وحدت کے خلاف ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں پارٹی رہنماؤں نے واضح کیا کہ اُن کے کسی رہنما، کارکن یا عہدیدار نے پنجاب یا پنجاب حکومت کے خلاف کوئی متنازع بات نہیں کی۔ پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر کوئی ثبوت موجود ہے تو پیش کیا جائے، ورنہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیانات واپس لیں۔
مریم نواز کے بیانات پر پیپلز پارٹی نے نہ صرف میڈیا میں ردعمل دیا بلکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے واک آؤٹ بھی کیا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران پارٹی کے سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ “ہمارا پانی، ہماری مرضی” جیسے جملے وفاقی سوچ کے منافی ہیں اور اگر ایسی روش اختیار کی گئی تو یہ دیگر صوبوں کو بھی یہی طرزِ فکر اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی طرزِ گفتگو جاری رہا تو پھر کوئی اور صوبہ بھی کہہ سکتا ہے: “ہمارا تیل، ہماری مرضی” یا “ہماری گندم، ہماری مرضی” — جو کہ ملکی یکجہتی اور اتحاد کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہو گا۔
اس سے پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے بھی مریم نواز کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، اور کہا کہ “میرا پانی، میرا پیسہ” جیسے الفاظ قومی اتحاد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔
حکومت کی ناراضی دور کرنے کی کوشش
نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی ناراضی دور کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسحاق ڈار سے ملاقات کر کے پیپلز پارٹی کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ حکومتی سطح پر کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے دور کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی مریم نواز پارٹی کے
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔