پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اُن سے بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا ۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پنجاب سے متعلق جو ریمارکس دیے گئے، وہ غیر ضروری، نامناسب اور وفاقی وحدت کے خلاف ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں پارٹی رہنماؤں نے واضح کیا کہ اُن کے کسی رہنما، کارکن یا عہدیدار نے پنجاب یا پنجاب حکومت کے خلاف کوئی متنازع بات نہیں کی۔ پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر کوئی ثبوت موجود ہے تو پیش کیا جائے، ورنہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیانات واپس لیں۔
مریم نواز کے بیانات پر پیپلز پارٹی نے نہ صرف میڈیا میں ردعمل دیا بلکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے واک آؤٹ بھی کیا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران پارٹی کے سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ “ہمارا پانی، ہماری مرضی” جیسے جملے وفاقی سوچ کے منافی ہیں اور اگر ایسی روش اختیار کی گئی تو یہ دیگر صوبوں کو بھی یہی طرزِ فکر اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی طرزِ گفتگو جاری رہا تو پھر کوئی اور صوبہ بھی کہہ سکتا ہے: “ہمارا تیل، ہماری مرضی” یا “ہماری گندم، ہماری مرضی” — جو کہ ملکی یکجہتی اور اتحاد کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہو گا۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے بھی مریم نواز کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، اور کہا کہ “میرا پانی، میرا پیسہ” جیسے الفاظ قومی اتحاد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔
حکومت کی ناراضی دور کرنے کی کوشش
نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی ناراضی دور کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسحاق ڈار سے ملاقات کر کے پیپلز پارٹی کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ حکومتی سطح پر کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے دور کیا جائے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی مریم نواز پارٹی کے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا