یکم اکتوبر کو پنجاب میں فضائی معیار معتدل، سموگ سے بچاؤ کے انتظامات جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پنجاب کے موسمیاتی پیشگوئی کے جدید نظام کے مطابق یکم اکتوبر کو فضائی معیار معتدل رہنے کا امکان ہے، جس سے شہری روزمرہ کے کام انجام دے سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے سموگ سے بچاؤ کے لیے بڑے انتظامات اور پلانز نافذ کر دیے ہیں۔
یکم اکتوبر کو پنجاب میں فضائی معیار معتدل رہنے کا امکان
ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے مطابق بدھ کی دوپہر سے شام پانچ بجے تک ایئر کوالٹی انڈیکس 120 سے 145 کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ رات ساڑھے 11 بجے تک یہ سطح 140 سے 165 تک جا سکتی ہے۔
دن کے اوسط فضائی معیار کا انڈیکس تقریباً 170 رہنے کا امکان ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فضائی معیار کی اس صورتحال کے مطابق احتیاطی اقدامات کریں۔
ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق صبح اور رات کے وقت درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے آلودگی زیادہ دیکھی گئی، جبکہ دوپہر کے وقت سب سے کم رہی۔
صبح 7 سے 9 بجے کے درمیان ٹریفک کے رش اور شام 5 سے رات 9 بجے تک ٹریفک کی وجہ سے فضائی آلودگی میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
حکومتی اقدامات اور پلانز
پنجاب بھر میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے اور سموگ سے بچاؤ کے لیے بڑا انتظامی آپریشن جاری ہے۔ حکومت نے پلان A، B اور C تیار کر لیے ہیں اور گزشتہ سال کی ایس او پیز کو ہر ادارے میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خراب موسم کے باعث اسلام آباد اور لاہور ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن متاثر
لاہور میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی پڑتال بھی شروع کر دی گئی ہے۔
شہریوں کے لیے معلوماتی اقدام
ماحولیاتی تحفظ کا ادارہ روزانہ موسم کی تازہ ترین صورتحال پر مختصر خبرنامہ جاری کرے گا تاکہ شہری احتیاطی اقدامات کر سکیں۔ پورے پنجاب میں ماحولیاتی فورس متحرک کر دی گئی ہے۔
سینیئر وزیر کا پیغام
سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے شہریوں سے کہا ہے کہ صورتحال ابھی قابو میں ہے، لیکن احتیاط اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے تاکہ سموگ سے ہونے والے خطرات کم کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب فضا فضائی آلودگی لاہور مریم اورنگزیب موسم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فضائی ا لودگی لاہور مریم اورنگزیب رہنے کا امکان فضائی معیار کے مطابق سموگ سے کے لیے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔