نیٹ فلکس کی سبسکرپشن ختم کرنے کی مہم کیوں چل رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اس کی رکنیت منسوخ کر دیں۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ نیٹ فلکس ایک ’ووک ایجنڈا‘ کو فروغ دے رہا ہے جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد پیغامات شیئر کرتے ہوئے نیٹ فلکس پر تنقید کی، جس میں انہوں نے کہا ’ نیٹ فلکس کی رکنیت منسوخ کریں‘۔ جبکہ ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کی صحت کے لیے نیٹ فلکس کینسل کریں‘۔
Cancel Netflix https://t.
— Elon Musk (@elonmusk) October 2, 2025
ایلون مسک کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب برطانوی اینی میشن ڈائریکٹر اور شو Dead End: Paranormal Park کے خالق ہی مش اسٹیل پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اسٹیل نے حال ہی میں کنزرویٹو تجزیہ کار چارلی کرک کی ہلاکت پر متنازع تبصرہ کیا تھا جس کے بعد ان پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
مبصرین کے مطابق ایلون مسک نے نیٹ فلکس پر “ووک ایجنڈا” کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ انہوں نے پلیٹ فارم کی LGBTQ کہانیوں اور ہائرنگ پالیسیز کو ہدفِ تنقید بنایا اور کہا کہ یہ مواد بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ فلکس سبسکرپشن فیس پر بھی ٹیکس لگ گیا
ایلون مسک کی جانب سے یہ مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیٹ فلکس کو پہلے ہی اپنے مواد اور پالیسیوں پر مختلف حلقوں کی تنقید کا سامنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایلون مسک نیٹ فلکس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایلون مسک نیٹ فلکس ایلون مسک نیٹ فلکس کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔