اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ کی رپورٹ کے مطابق 12 فروری 2025ء سے 30 ستمبر تک 10,780 مقدمات نمٹائے گئے، 3,264 مقدمات کے ڈویژن بنچز نے فیصلے کئے، سنگل بینچز نے 7,516 مقدمات نمٹائے، 700 مقدمات پر نامکمل فائلنگ کی وجہ سے اعتراض عائد کر رکھے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی ماہ ستمبر کی کارکردگی رپورٹ بھی جاری کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق 12 فروری 2025ء سے 30 ستمبر تک 10,780 مقدمات نمٹائے گئے، 3,264 مقدمات کے ڈویژن بنچز نے فیصلے کئے، سنگل بینچز نے 7,516 مقدمات نمٹائے، 700 مقدمات پر نامکمل فائلنگ کی وجہ سے اعتراض عائد کر رکھے ہیں۔
جسٹس انعام امین منہاس نے 1,511 مقدمات نمٹائے، جسٹس محمد اعظم خان نے 1,299، جسٹس محمد آصف نے 970 مقدمات کے فیصلے کئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے 789 مقدمات نمٹائے، جسٹس محسن اختر کیانی نے 672، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 377 مقدمات نمٹائے۔
جسٹس بابر ستار نے 292 مقدمات نمٹائے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے 270، جسٹس ارباب محمد طاہر نے 463 مقدمات کے فیصلے کئے۔ رپورٹ کے مطابق جسٹس ثمن رفت امتیاز نے 404 مقدمات کے فیصلے کئے جبکہ جسٹس خادم حسین سومرو نے 360 مقدمات نمٹائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق مقدمات نمٹائے مقدمات کے فیصلے کئے
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔