پنجاب سے خیبرپختونخوا کو آٹے پر پابندی غیر آئینی اقدام ہے ،میاں افتخارحسین
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لوئردیر (آئی این پی )اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پنجاب سے خیبر پختو نخوا کو آٹے پر پابندی غیر ائین اقدام ہے،اگر پنجاب سے کے پی کو آٹا فراہمی اسمگلنگ ہے تو پھر کے پی سے پنجاب کو بجلی اور پانی کی سپلائی بھی اسمگلنگ ہے اس پر بھی پابندی لگانا چاہئے، پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن وہ ہمیں بھی بھائی تسلیم کرے خیبر پختو نخواا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور صوبہ کا کوئی ضلع ایسا نہیں جو دہشت گردی سے متاثر نہ ہوں دہشت گرد کہاںسے آتے ہیں اور انہیں کون تربیت دیں رہے ہیں ۔یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے جبکہ اٹک سے اس پار پنجاب اور سندھ میں مکمل امن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تیمرگرہ میں اے این پی لوئر دیر کے ضلعی کابینہ کے انتخابات کے موقع پر کارکنوں کی ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسف زئی ، ضلعی صد رحاجی بہادر خان ، ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ باجوڑ میں مولانا خان زیب کو دن دھاڑے شہیدکیا گیا جبکہ قریب سیکورٹی فورسز اور پولیس کی چیک پوسٹ اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی موجود تھے لیکن ان کے قاتل کیوں نہ پکڑے گئے تیراہ میں ایک گھر کے 18افراد جبکہ دوسرے گھر کے ایک خاندان کے 24افراد شہید کیا گیا اور حکومت نے بے گناہ افراد کو دہشت گرد قرار دیا اور پھر شہید ہونے والے افراد کے لئے صوبائی حکومت نے ایک ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان بھی کیا۔ میاں افتخار نے کہا کہ اگر واقعی یہ دہشت گرد تھے تو ان کے لئے معاوضہ کا اعلان پھر کیوںکیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پختون بیلٹ پر دہشت گردی مسلط کی گئی ہے لوئر دیر میدان ، باجوڑ سمیت جنوبی اضلاع میں دہشت گرد موجود ہیں یہ دہشت گرد کہاں سے ائے اور انہیں کیوں نہیں روکا گیا دہشت گردی حکمرانوں کی غلط پالسیوں کا نتیجہ ہے جبکہ تک حکومت اپنے پالیسی تبدیل نہیں کرتی آمن نہیں آئے گا پاکستان کی خارجہ اور اندرونی پالیساں امریکا کی ہے حکمران ہوش کا ناخن لیں اور اپنے پالیسیوں پر نظر ثانی کرے قوم وملک کو مزید تباہ نہ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔