اسرائیلی فوج کی زیرِ حراست گریٹا تھنبرگ کی ویڈیو جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
غزہ میں امداد لے جانے والی کشتیوں کے قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا پر سوار ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، جو اس وقت اسرائیلی افواج کی قید میں ہیں، کی ویڈیو اسرائیل نے جاری کردی ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے گزشتہ روز جاری کردہ ویڈیو میں سوئیڈش ماحولیاتی کارکن دکھائی دے رہی ہیں جنہیں اسرائیلی افواج نے حال ہی میں حراست میں لیا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ گریٹا تھنبرگ اور ان کے ساتھیوں کو اسرائیلی پورٹ منتقل کیا جارہا ہے۔
اس سے قبل گریٹا تھنبرگ کی گرفتاری کے بعد ان کا پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام بھی منظر عام پر آیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے مجھے میری مرضی کے بغیر اسرائیلی فوج نے اغوا کرلیا ہے۔
گریٹا تھنبرگ نے کہا تھا کہ ہمارا انسانی ہمدردی کا مشن عالمی قانون کے مطابق پُرتشدد نہیں تھا، سوئیڈن کی حکومت ان کے اور ان کے ساتھیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرے۔
خیال رہے کہ یکم اور 2 اکتوبر کی درمیانی شب غزہ امداد لے جانے والی کشتیوں کے قافلے پر اسرائیلی افواج نے دھاوا بول دیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز فلوٹیلا کے جہازوں، کشتیوں کو روک کر گریٹا تھنبرگ سمیت 200 ارکان کو گرفتار کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صمود فلوٹیلا کی کشتیوں پر سوار سابق سینیٹر مشتاق احمد کو بھی اسرائیلی افواج نے حراست میں لے لیا تھا۔
واضح رہے کہ فلوٹیلا درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد افراد کے ساتھ روانہ ہوا تھا، جس کا مقصد جنگ زدہ غزہ میں خوراک، پانی اور ادویات پہنچانا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی افواج گریٹا تھنبرگ
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔