’چھوٹے دکانداروں کو تنگ کرنے کے بجائے اصل مافیا کو پکڑیں‘ پنجاب میں کارروائی پر لوگوں کا اعتراض
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر مصنوعی مہنگائی کے خلاف پنجاب بھر میں بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ معاون خصوصی برائے پرائس کنٹرول سلمیٰ بٹ نے پیر فورس اور ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ لاہور کی مختلف دکانوں پر چھاپے مارے اور کئی دکانیں سیل کر دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیادی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں پر گراں فروشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
سلمیٰ بٹ نے کہا کہ سیلاب کا بہانہ بنا کر عوام کا استحصال ناقابلِ قبول ہے۔ قیمتوں میں شفافیت ہر حال میں یقینی بنائی جائے گی اور گراں فروشی کسی صورت برداشت نہیں ہوگی۔
سیلاب کا بہانہ بنا کر عوام کا استحصال ناقابلِ قبول ہے۔ قیمتوں میں شفافیت ہر حال میں یقینی بنائی جائے گی اور گراں فروشی کسی صورت برداشت نہیں ہوگی۔ pic.
— Salma Butt (@SalmaButtPMLN) October 2, 2025
صارفین کی جانب سے اس کارروائی پر ملے جلے ردعمل دیکھنے کو ملے۔ کچھ صارفین نے معاون خصوصی کی کارکردگی کو سراہا، جب کہ کئی نے کہا کہ مہنگائی کی اصل وجہ منڈی اور بڑے تاجروں کی من مانی ہے، اور چھوٹے دکانداروں پر کارروائی کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ایک صارف نے کہا کہ لوگوں کی تذلیل نہ کریں بہت غلط پیغام جارہا ہے۔ ریڑھی اور ٹھیلے والا کبھی بھی خود ناجائزریٹ نہیں لگاتا۔ سبزی فروٹ منڈیوں میں جائیں صبح صبح جہاں ان چیزوں کی نیلامی ہوتی ہے یہ وہاں سےخرید کر لاتے ہیں نرخوں کا اندازه ہو جائے گا۔
لوگوں کی تذلیل نہ کریں بہت غلط پیغام جارہا ھے . ریڑھی اور ٹھیلے والا کبھی بھی اپنے تئیں ناجائزریٹ نہیں لگاتا سبزی فروٹ منڈیوں میں جائیں صبح صبح جہاں ان چیزوں کی نیلا می ہوتی ہے یہ وہاں سےخرید کر لاتے ہیں نرخوں کا اندازه ہو جائے گا
— MUHAMMAD ANWARUL HAQ (@mahaq88) October 3, 2025
طاہر کیانی لکھتے ہیں کہ ان دکانداروں کو تنگ کرنے کے بجائے اوپر بیٹھے مافیا کو پکڑیں جو ان کو مہنگے داموں چیزیں دیتے ہیں ان کا علاج کریں۔
یہ لوگ واقعی پاگل ہیں ان دکانداروں کو تنگ کرنے کے بجائے اوپر بیٹھے مافیا کو پکڑو جو ان کو مہنگے داموں دیتے ہیں ان کا علاج کرو
— M TAHIR KAYANI (@Tarikayani) October 3, 2025
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سلمیٰ بٹ کے اس اقدام کو سراہا اور انہیں شاباشی دی۔
Shabash Salma ???????? https://t.co/9zRVAx5IkO
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 2, 2025
احسن خان نے لکھا کہ جب چینی کے ریٹ بڑھے تب آپ کدھر تھی۔
جب چینی کے ریٹ بڑھے تب میڈم صاحبہ کدھر تھی سوال کر سکتے ہیں کیونکہ ڈر لگتا ہے برا نا مان جائیں آپ https://t.co/xuvkQuXZKO
— Ahsan Khan (@SardarA95278756) October 2, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔