ایران کے وسطی حصے میں 5.3 شدت کا زلزلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے وسطی صوبے اصفہان کے علاقے زوارہ کے مضافات میں 5.3 شدت کا زلزلہ آیا،جس کی گہرائی 10 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے تہران اور دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔ تہران کی ایمرجنسی اتھارٹی کے مطابق دارالحکومت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کے باوجود کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واضح رہے کہ ایران میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں کیونکہ ملک زمین کی پرت کے نیچے ٹیکٹونک پلیٹوں کے تصادم کے زون میں واقع ہے۔ ملکی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ 1990 ء میں شمال مغربی علاقے میں آیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔