UrduPoint:
2026-06-02@22:50:21 GMT

فلپائن: زلزلے میں 72 افراد ہلاک، 20 ہزار زیادہ بے گھر

اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT

فلپائن: زلزلے میں 72 افراد ہلاک، 20 ہزار زیادہ بے گھر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 03 اکتوبر 2025ء) فلپائن میں آنے والےزلزلے میں 72 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 20 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہسپتالوں پر بوجھ میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

6.9 شدت کا یہ زلزلہ 30 ستمبر کو رات دس بجے بوگو شہر کے ساحلی علاقے سیبو میں آیا جس کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔

زلزلہ آنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں افراتفری پھیل گئی۔ حکام نے ابتداً سونامی کی وارننگ بھی جاری کی جسے بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔ Tweet URL

زلزلے سے بوگو، میڈیلن اور سان ریمگیو میں 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔

(جاری ہے)

اس آفت نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 11 ہزار سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے جن کی بڑی تعداد ثانوی جھٹکوں کے خوف سے اپنے تباہ شدہ گھروں کے باہر یا کھلی جگہوں پر مقیم ہے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، فلپائنی حکام نے چار علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امدادی کوششوں کے لیے ہنگامی بنیاد پر وسائل جاری کیے گئے ہیں جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے ایک مرکز بھی بنایا گیا ہے۔

ہسپتالوں پر شدید دباؤ

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، زلزلے سے مکانات، گرجا گھروں، سکولوں، سرکاری عمارتوں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کم از کم دو بندرگاہیں بھی زلزلے سے متاثر ہوئی ہیں جبکہ کئی سڑکیں جزوی طور پر بند ہیں جس کے باعث امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔

امدادی شراکت داروں نے پناہ کے سامان، صاف پانی اور امدادی رسائی کو فوری ترجیح قرار دیا ہے جبکہ متاثرین کو صحت و صفائی اور پانی صاف کرنے کا سامان پہنچانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بھی بے گھر ہو جانے والے لوگوں کی مدد کا اعلان کیا ہے۔

اس آفت نے طبی خدمات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ شمالی سیبو کے ہسپتال اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ دباؤ میں ہیں جبکہ طبی مراکز ہمسایہ صوبوں سے لائی گئی ہنگامی طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں مغربی الکاہل خطے کے ریجنل ڈائریکٹر سائیا ماؤ پیوکالا نے کہا ہے کہ ادار ےکا دفتر حکومت کو ہر ممکن مدد پہنچائے گا۔

340 ثانوی جھٹکے

زلزلے کے بعد سے اب تک اس کے 340 سے زیادہ ثانوی جھٹکے آ چکے ہیں جن کی شدت 4.

8 تک رہی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں یہ جھٹکے جاری رہنے کا امکان ہے۔

پیوکالا نے امدادی کارروائیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلپائن سمیت خطے کے 37 ممالک قدرتی آفات کے خطرے سے دوچار ہیں۔ بحرالکاہل کے 'رنگ آف فائر' پر واقع فلپائن کو تواتر سے زلزلوں، آتش فشاں پھٹنے اور طوفانوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ موسمیاتی بحران نے ان خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ملک میں اقوام متحدہ کی ٹیم نے زلزلہ متاثرین سے ہمدردی اور ان کے ساتھ مسلسل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عملے اور رضاکاروں کی خدمات کو سراہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سے زیادہ ہے جبکہ کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود