اگر مجھے یا خاندان کو کوئی نقصان پہنچا تو ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، ایمل ولی خان
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ان کی اور ان کے خاندان کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، اگر انہیں یا ان کے خاندان کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
The federal government/ Interior Ministry has taken back all the security personnel allotted to me and my father and family.
Two things
1. If anything happens to me or my family the responsibility will be yours
2. I’ll keep on speaking for the public and am ready for anything…
— Aimal Wali Khan (@AimalWali) October 4, 2025
اپنے بیان میں ایمل ولی کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور جو بھی ان کے راستے میں آئے گا، اس کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ نجی سکیورٹی کے ساتھ زیادہ محفوظ انداز میں سفر کریں گے۔
And now the provincial government has also decided to retract all security personnel at our disposal. I again quote “What a joke”.
— Aimal Wali Khan (@AimalWali) October 4, 2025
ایمل ولی نے ایک اور ٹوئٹ میں انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت نے بھی ان کے تمام سیکیورٹی اہلکار واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ ناقابلِ فہم اور ایک مذاق کے مترادف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایمل ولی خان خیبرپختونخوا حکومت سیکیورٹی عوامی نیشنل پارٹی وفاقی حکومت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمل ولی خان خیبرپختونخوا حکومت سیکیورٹی عوامی نیشنل پارٹی وفاقی حکومت ایمل ولی
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔