امریکی غلامی قبول نہیں، حکومت دو ریاستی حل کی رٹ چھوڑ دے: حافظ نعیم، لاہور میں غزہ ملین مارچ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت دوریاستی حل کی رَٹ لگانا چھوڑ دے، قوم اسرائیل کو تسلیم کرنے یا ابراہم اکارڈ کی جانب پیش قدمی کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دے گی۔ حماس نے ٹرمپ منصوبہ پر مشروط آمادگی کا اظہار کرکے دانشمندی کا ثبوت دیا، حماس مزاحمت کا استعارہ، اس کے مخالف سامراج کے آلہ کار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں وحدت روڈ پر غزہ ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خواتین، بچوں، بزرگوں سمیت عوام کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل امیرالعظیم، ڈاکٹر حمیرہ طارق، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ، ڈپٹی سیکرٹری اظہر اقبال حسن، اظہر بلال اور دیگر رہنماؤں نے بھی ملین مارچ کے شرکاء سے خطاب کیا۔ حافظ ادریس نے دعا سے مارچ کا اختتام کیا۔ ڈپٹی سیکرٹری عثمان فاروق، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، حلقہ خواتین اور اسلامی جمعیت طلبہ کی قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔ امیر جماعت اسلامی نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر پرائم منسٹر آپ غلط ٹریک پر چل رہے ہیں۔ امریکہ زوال پذیر قوت ہے، دنیا میں طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں اور آپ ٹرمپ کی خوشامد میں مصروف اسے نوبل انعام کے لیے نامزد کر چکے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینیٹر مشتاق سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے تمام گرفتار امدادی کارکنوں کی رہائی کے لیے فوری کوششیں کرے۔ امیرجماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ اتوار 5 اکتوبر کو کراچی میں اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے ملین مارچ ہو گا۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ 7 اکتوبر کو گیارہ بجے دن گھروں سے نکل کر ’’فری فلسطین‘‘ تحریک کے حق میں آواز بلند کریں۔ انہوں نے اکیس بائیس تئیس نومبر کو مینار پاکستان تلے ہونے والے اجتماع عام میں عوام کو شرکت کی دعوت دی اور اس عہد کا اعادہ کیا کہ ’’نظام بدل دو‘‘ نعرہ کے تحت ہونے والا تاریخ ساز اجتماع ملک، سیاست اور نظام میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا اور نئی صبح کا آغاز ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ملین مارچ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔