پنجاب میں کالجز کے لیے سیکیورٹی الرٹ، سخت اقدامات کا حکم جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
پنجاب کے کالجز کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے محکمہ ہائر ایجوکیشن نے تمام سرکاری و نجی کالجز کو سخت سیکیورٹی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
جاری کیے گئے مراسلے کے مطابق کالجز میں صرف ایک مرکزی دروازے سے داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ دیگر تمام داخلی راستے بند رکھنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاتی امرا میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سیکیورٹی میں اضافہ
طلبا اور عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر وقت اپنے شناختی کارڈ ساتھ رکھیں، جب کہ کالجز میں بغیر اسٹیکرز کے گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن نے تمام کالجز کو ہدایت کی ہے کہ داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈٹیکٹرز نصب کیے جائیں۔
’بیگز اور گاڑیوں کی باقاعدہ چیکنگ یقینی بنائی جائے، اور کالج کی سرحدی دیواروں پر خاردار تاریں لگائی جائیں۔‘
مزید پڑھیں: اسلام آباد خود کش حملے کے بعد پنجاب بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
مزید ہدایت کی گئی ہے کہ رات کے اوقات میں احاطوں میں مناسب روشنی کا انتظام کیا جائے اور تمام عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات اور فائر الارم نصب ہوں۔
مراسلے کے مطابق تمام کالجز میں فعال سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں جو چوبیس گھنٹے نگرانی کریں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث سیف سٹی اتھارٹی ہائی الرٹ
طلبا کی تعداد کے لحاظ سے سیکیورٹی عملے میں اضافہ کیا جائے گا، جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اساتذہ اور طلبا کو خصوصی تربیت دینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن نے تمام کالجز کے پرنسپلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ 7 روز کے اندر کیے گئے سیکیورٹی اقدامات کی رپورٹ جمع کروائیں تاکہ حفاظتی انتظامات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الرٹ پنجاب سی سی ٹی وی سیکیورٹی کالجز کیمرے مراسلہ ہائر ایجوکیشن ہنگامی صورتحال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الرٹ سی سی ٹی وی سیکیورٹی کالجز کیمرے مراسلہ ہائر ایجوکیشن ہنگامی صورتحال ہائر ایجوکیشن ہدایت کی کے لیے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔