سٹی42ؒ: لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق شہر بھر میں سرچ اینڈ سویپ آپریشن جاری ہے جبکہ ناکہ جات سے گزرنے والی گاڑیوں اور مشکوک افراد کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ علی الصبح ناکہ شیرا کوٹ پر کارروائی کے دوران 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

ترجمان کے مطابق معمول کی چیکنگ کے دوران غیر ملکی باشندوں پر شک گزرنے پر انہیں روکا گیا۔ تمام مشتبہ افراد کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے لاہور میں داخل ہو رہے تھے۔ مشتبہ افراد کے قبضے سے ایک خاتون کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا، جس کی بنیاد پر انہوں نے بس کی ٹکٹ حاصل کی تھی۔

افغان کرکٹر راشد خان کی دوسری اہلیہ کون؟ تصاویر سامنے آگئیں

حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد میں عابد، ضیا، حمید، عادل، عنائت، راحت، احسان، نقیب، فیض، امجد اور صفی اللہ شامل ہیں۔ تمام افراد کو تصدیق اور شناخت کے لیے تھانہ شیرا کوٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب کے تعلیمی اداروں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری  کر دیا گیا ہے۔ کالجز کو ایک گیٹ سے مرکزی داخلے، دیگر تمام دروازے بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے علاوہ کالجز میں داخلے کے وقت تمام بیگز، گاڑیاں چیک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔  مراسلے کے مطابق پنجاب کے کالجز کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس، میٹل ڈٹیکٹرز استعمال کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے، طلبا اور عملے کو ہروقت اپنے شناختی کارڈز ساتھ رکھنے ہوں گے، کالجز میں اسٹیکرز کے بغیر گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد ہوگی۔

کراچی :ٹریفک نظام میں روبوٹک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ

 مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کالجز کی سرحدی دیواروں پر خاردار تاریں نصب کی جائیں، رات کے اوقات میں تمام کالجز کے احاطے میں روشنی کا انتظام کیا جائے، تمام کالجز کو مناسب سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور 24 گھنٹے فعال رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ طلبا کی تعداد کی بنیاد پر کالجز کو سیکیورٹی عملہ بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ آگ بجھانے کے آلات، فائر الارمز تمام عمارتوں میں نصب کیے جائیں، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اساتذہ اور طلبا کی ٹریننگ کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔

وفاقی عدالتوں کے ملازمین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 مشتبہ افراد دیا گیا ہے کا حکم

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش