شاہ رخ خان کے ساتھ بھی کام کی آفر ملے تو بھارت نہیں جاؤں گی، مومنہ اقبال
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
کراچی:
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کا کہنا ہے کہ اگر شاہ رخ خان کے ساتھ کام کی آفر بھی ہو جائے تو وہ بھارت نہیں جائیں گی۔
ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں مومنہ اقبال نے اپنے نئے ڈرامے اور شوبز انڈسٹری سے متعلق مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ دورانِ انٹرویو میزبان نے ان سے سوال کیا کہ اگر بھارت سے شاہ رخ خان کے ساتھ کام کی پیشکش ہو تو ان کا کیا ردعمل ہوگا؟۔
سوال کے جواب میں اداکارہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ میں بھارت نہیں جاؤں گی چاہے شاہ رخ خان کے ساتھ فلم کی آفر ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے جتنا کام اور عزت اپنے ملک میں مل رہی ہے میں اس میں خوش ہوں۔ اگر میں پاکستان میں رہ کر اپنے ملک کا نام روشن کر سکوں تو میرے لیے اس سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں۔
مومنہ اقبال کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے پہلے اپنے لوگوں کی محبت اور پذیرائی چاہیے اور وہ ہمیشہ پاکستان میں کام کرنے کو ہی ترجیح دیتی ہیں کیونکہ یہاں انہیں جو عزت اور محبت ملی ہے وہ کہیں اور نہیں مل سکتی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: شاہ رخ خان کے ساتھ مومنہ اقبال
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔