آزاد کشمیر میں حکومتی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب، معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
آزاد کشمیر میں کئی روز سے جاری کشیدگی ختم ہوگئی۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے اور فریقین نے معاہدے پر دستخط کردیے۔
مظفرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے اعلان کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فریقین کے درمیان معاملات کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے لیگل ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو ہر 15 دن بعد بیٹھک کرے گی۔
الحمد للہ
ہمارے مذاکراتی وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی AJK کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔ تمام سڑکیں کھل گئی ہیں۔
یہ امن کی فتح ہے۔
آزاد کشمیر زندہ باد
پاکستان پائندہ باد pic.
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) October 3, 2025
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا کہ کچھ عناصر چاہتے تھے کہ حالات خراب ہوں مگر ان کے تمام منصوبے ناکام ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں امن قائم رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، اب کسی کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں، مسائل کمیٹی کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس معاہدے کو پاکستان، آزاد کشمیر اور جمہوریت کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تصادم کے بجائے مشاورت کو اور انا کے بجائے اتحاد کو ترجیح دی، جس سے بحران پرامن طور پر ختم ہوا۔
طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے، مظاہرین گھروں کو واپس جا رہے ہیں اور تمام سڑکیں کھل گئی ہیں۔
وفاقی وزرا اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کے نکات بھی سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق پرتشدد واقعات سے ہلاکتوں پر انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔
یکم اور 2 اکتوبر کو جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا، زخمیوں کو فی کس 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
معاہدے میں طے پایا کہ شہدا کے خاندان میں ایک شخص کو 20 دن میں سرکاری نوکری دی جائے گی، مظفرآباد، پونچھ ڈویژن میں 2 اضافی سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ بنائے جائیں گے، دونوں بورڈ کا فیڈرل بورڈ سے الحاق کیا جائے گا۔
معاہدے کے مطابق آزاد کشمیر حکومت 15 دن میں ہیلتھ کارڈ کے لیے فنڈز جاری کرے گی۔ حکومت پاکستان بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے دے گی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی کشیدہ صورتحال کے حل کے لیے رانا ثنااللہ، احسن اقبال، طارق فضل چوہدری، امیر مقام، سردار یوسف، راجا پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ایکشن کمیٹی کے کے درمیان کے لیے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔