کریڈٹ کارڈ استعمال کرنیوالے نان فائلرز کیلئے بری خبر
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) نے کریڈٹ کارڈ سے خریداری کرنے والے نان فائلرز کےخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔
ٹیکس چوری اور پوشیدہ آمدن کا سراغ لگانے کے لئے ایف بی آر نے کمرشل بینکوں سے کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وہ افراد جو ماہانہ 2 لاکھ روپے سے زائد کی شاپنگ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کر رہے ہیں، اب ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے ہیں۔ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کیلئے اب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گوشواروں میں کریڈٹ کارڈ سے کی جانے والی خریداری کی تفصیلات بھی شامل کریں۔
کوئٹہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں نے ایف بی آر کے ساتھ صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ نان فائلرز کی آمدن اور اخراجات میں فرق کو جانچا جا سکے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق کریڈٹ کارڈ کے اخراجات سے نان فائلرز کی حقیقی آمدن کا تعین کیا جائے گا، اور جو افراد بڑے پیمانے پر خریداری کر کے بھی ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے، ان کیخلاف نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔
ایف بی آر کی جانب سے واضح کیا گیا کہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر ہے، جس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ ادارے نے ٹیکس دہندگان کو ایس ایم ایس اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اپنے گوشوارے جمع کرائیں، ورنہ ان کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
شہیدوں کی قربانیوں پر ہزاروں حکومتیں قربان ہیں؛ حنیف عباسی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کریڈٹ کارڈ نان فائلرز ایف بی آر کر دیا
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔