آئی سی سی ایونٹس کے دوران پاک بھارت میچز کا انتظام نہیں کرنا چاہیے: سابق انگلش کپتان
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے آئی سی سی کو مقابلوں کے دوران پاک بھارت مقابلے نہ رکھنے کی تجویز دے دی۔
ایشیا کپ کے دوران پیدا ہونے والی صورتِ حال کی وجہ سے تجویز دیتے ہوئے مائیکل ایتھرٹن نے کہا ہے کہ آئی سی سی ایونٹس کے دوران پاک بھارت میچز کا انتظام نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی ایونٹس میں پاک بھارت مقابلے شیڈول کرنے کی وجہ معاشی اور سفارتی ہوسکتی ہے، وقت آ گیا ہے کہ اب دونوں ممالک کے تعلقات میں کمی آنے کی وجہ سے یہ تاثر ختم ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی ایونٹ میں اس مقابلے کا مالی طور پر بڑا اثر ہے، اس مقابلے کی وجہ سے ہی شائد ایک اندازے کے مطابق موجودہ سرکل میں برارڈ کاسٹ رائٹس 3 ارب ڈالرز کے رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ بارڈر ٹینشن کے لیے پراکسی بن گیا ہے۔
مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ پہلے کرکٹ کو ڈپلومیسی کے پہیے کے طور لیا جاتا تھا لیکن اب یہ واضح طور پر کشیدگی اور پروپیگنڈا کے لیے پراکسی ہے، دونوں ٹیموں کے میچز کا ایونٹس میں انتظام کرنے کا بہت چھوٹا جواز ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ جواز ہمیشہ مالی طور پر بیان کیا گیا، آئندہ سرکل میں ڈراز ٹرانسپیرنٹ ہونے چاہئیں، اگر دونوں ٹیموں کا مقابلہ نہیں ہوتا تو پھر ایسے ہی ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاک بھارت کے دوران کی وجہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔