Jasarat News:
2026-07-24@07:22:31 GMT

اسرائیل کے مقابلے میں اقوام عالم کی بے بسی

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251006-03-4

 

متین فکری

اقوام متحدہ پوری دنیا میں آباد قوموں اور ملکوں کا نمائندہ ادارہ ہے اس ادارے کا مقصد دنیا میں امن قائم کرنا اور قوموں کے درمیان تنازعات کو خوش اسلوبی سے طے کرانا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں اپنی افادیت ثابت کی ہے اور عالمی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن یہ اس وقت ممکن ہوا ہے جب امریکا نے بھی اس کا ساتھ دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ارکان امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو ویٹو کے اختیارات حاصل ہیں یعنی سلامتی کونسل اگر اپنے مستقل اور غیر مستقل ارکان کی کثرت رائے سے کوئی قرار داد منظور بھی کرلے تو کوئی مستقل رکن اسے ویٹو کرنے یعنی مسترد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے ویٹو کرنے سے وہ قرار داد غیر موثر ہوجاتی ہے اور سلامتی کونسل کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی۔ بصورت دیگر وہ کسی علاقے میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی امن فوج بھیجنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کی کوئی مستقل امن فوج نہیں ہے وہ مختلف ملکوں سے فوجی دستے طلب کرتی اور انہیں ’’امن فوج‘‘ کے نام سے متنازع علاقے میں تعینات کرکے امن قائم کرتی ہے۔ اس حوالے سے اس کی کارکردگی قابل تعریف رہی ہے۔ پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کی امن فوج میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور پاکستان کے فوجی دستوں کی کارکردگی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار سب سے زیادہ امریکا نے استعمال کیا ہے۔ غزہ میں 2 سال سے اسرائیلی جارحیت جاری ہے وہ غزہ میں ہزاروں مردوں، عورتوں، بچوں اور خاص طور پر شیرخوار بچوں کو شہید کرچکا ہے، اگرچہ شہدا کی تعداد 68 ہزار بتائی جاتی ہے لیکن عینی شاہدین کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اسرائیلی بمباری سے زخمی اور معذور ہونے والے فلسطینیوں کا بھی کوئی شمار نہیں۔ اسرائیل نے پورے غزہ کو کھنڈر بنادیا ہے، یہ حالات اس بات کا تقاضا کررہے تھے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی عمل میں لائی جائے، چنانچہ سلامتی کونسل میں بار بار جنگ بندی کی قرار داد پیش ہوئی اور امریکا نے ہر بار اسے ویٹو کردیا۔ اس طرح اس نے ببانگ ِ دہل اعلان کیا کہ وہ جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے لیکن حیرت ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا علمبردار قرار دیتے ہوئے اسے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

خود ٹرمپ کی منافقت کا یہ حال ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے پر الزام لگایا ہے کہ وہ دنیا میں جنگ روکنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ حالانکہ اس کی ناکامی میں امریکا کا بڑا ہاتھ ہے اس نے عالمی ادارے کو اپنے ویٹو کے ذریعے یرغمال بنا رکھا ہے، اب ٹرمپ نے غزہ کے لیے جس امن منصوبے کا اعلان کیا ہے اس کا مقصد جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ فلسطینیوں کو اسرائیل کا غلام بنانا اور حماس کی مزاحمت کو ختم کرنا ہے۔ اسرائیل اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود حماس کو ختم کرنے میں ناکام رہا اب وہ امریکی امن منصوبے کی آڑ میں یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمام عرب ملکوں نے اس منصوبے کی حمایت کردی ہے، اس طرح حماس کی قیادت اگر اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کسی عرب ملک میں پناہ لینا چاہے تو اسے پناہ نہیں ملے گی۔ حماس نے فی الحال امریکی منصوبے پر مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ عرب حکمرانوں کے ذریعے اسے ٹھکانے لگادے گا۔ پاکستان کی حکمران قیادت بھی امریکی منصوبے کی پرجوش حامی ہے۔ امریکی منصوبے میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو بھی نظر انداز کردیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل کسی فلسطینی ریاست کے حق میں نہیں ہے۔ امریکی منصوبے کا واحد مقصد غزہ پر اسرائیل کی بالادستی قائم کرنا ہے۔

اب آتے ہیں صمود فلوٹیلا کی طرف۔ یہ امدادی بحری بیڑہ جو غزہ کا غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرہ توڑنے کے لیے بین الاقوامی سول سوسائٹی کے زیر اہتمام روانہ ہوا تھا اگرچہ طویل سمندری سفر کرنے کے بعد اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے لیکن اسرائیلی فوجوں نے اس کا محاصرہ کرکے اس میں موجود تمام رضا کاروں کو حراست میں لے لیا ہے، اس بحری بیڑے میں امدادی سامان سے بھری ہوئی پچاس کشتیاں ہیں جو چوالیس سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم ملکوں کی نمائندگی کررہی ہیں۔ ان میں پاکستان سے ہمارے سابق سینیٹر مشتاق احمد صاحب بھی شامل ہیں، جو ہمیں انٹرنیٹ کے ذریعے اس سفر سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرتے رہے۔ صمود فلوٹیلا کئی مرتبہ طوفان میں گھرا لیکن اس نے سفر جاری رکھا، بالآخر اپنی منزل تک پہنچ گیا، پھر اسرائیلی فوجوں نے دھاوا بول دیا اور سب کو پکڑ کر لے گئی۔ اس پر پوری دنیا میں احتجاج ہورہا ہے۔ جماعت اسلامی نے پاکستان میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا ہے لیکن اسرائیل وہ بے غیرت ملک ہے جو عالمی احتجاج کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ اس نے اقوام عالم کو اپنے آگے بے بس بنا رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فساد کی اصل جڑ امریکا ہے، اسرائیل امریکا کے کھونٹے پر ناچ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران نے امریکا کو ’’شیطان کبیر‘‘ قرار دیا ہے۔ جب تک ’’شیطان کبیر‘‘ کا بندوبست نہیں ہوتا یہ دنیا اسی طرح فسادات سے بھڑکتی رہے گی۔

متین فکری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی امریکی منصوبے سلامتی کونسل دنیا میں ہے لیکن امن فوج کیا ہے گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم