Jasarat News:
2026-06-02@22:58:47 GMT

اسرائیل کے مقابلے میں اقوام عالم کی بے بسی

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251006-03-4

 

متین فکری

اقوام متحدہ پوری دنیا میں آباد قوموں اور ملکوں کا نمائندہ ادارہ ہے اس ادارے کا مقصد دنیا میں امن قائم کرنا اور قوموں کے درمیان تنازعات کو خوش اسلوبی سے طے کرانا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں اپنی افادیت ثابت کی ہے اور عالمی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن یہ اس وقت ممکن ہوا ہے جب امریکا نے بھی اس کا ساتھ دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ارکان امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو ویٹو کے اختیارات حاصل ہیں یعنی سلامتی کونسل اگر اپنے مستقل اور غیر مستقل ارکان کی کثرت رائے سے کوئی قرار داد منظور بھی کرلے تو کوئی مستقل رکن اسے ویٹو کرنے یعنی مسترد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے ویٹو کرنے سے وہ قرار داد غیر موثر ہوجاتی ہے اور سلامتی کونسل کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی۔ بصورت دیگر وہ کسی علاقے میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی امن فوج بھیجنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کی کوئی مستقل امن فوج نہیں ہے وہ مختلف ملکوں سے فوجی دستے طلب کرتی اور انہیں ’’امن فوج‘‘ کے نام سے متنازع علاقے میں تعینات کرکے امن قائم کرتی ہے۔ اس حوالے سے اس کی کارکردگی قابل تعریف رہی ہے۔ پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کی امن فوج میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور پاکستان کے فوجی دستوں کی کارکردگی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار سب سے زیادہ امریکا نے استعمال کیا ہے۔ غزہ میں 2 سال سے اسرائیلی جارحیت جاری ہے وہ غزہ میں ہزاروں مردوں، عورتوں، بچوں اور خاص طور پر شیرخوار بچوں کو شہید کرچکا ہے، اگرچہ شہدا کی تعداد 68 ہزار بتائی جاتی ہے لیکن عینی شاہدین کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اسرائیلی بمباری سے زخمی اور معذور ہونے والے فلسطینیوں کا بھی کوئی شمار نہیں۔ اسرائیل نے پورے غزہ کو کھنڈر بنادیا ہے، یہ حالات اس بات کا تقاضا کررہے تھے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی عمل میں لائی جائے، چنانچہ سلامتی کونسل میں بار بار جنگ بندی کی قرار داد پیش ہوئی اور امریکا نے ہر بار اسے ویٹو کردیا۔ اس طرح اس نے ببانگ ِ دہل اعلان کیا کہ وہ جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے لیکن حیرت ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا علمبردار قرار دیتے ہوئے اسے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

خود ٹرمپ کی منافقت کا یہ حال ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے پر الزام لگایا ہے کہ وہ دنیا میں جنگ روکنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ حالانکہ اس کی ناکامی میں امریکا کا بڑا ہاتھ ہے اس نے عالمی ادارے کو اپنے ویٹو کے ذریعے یرغمال بنا رکھا ہے، اب ٹرمپ نے غزہ کے لیے جس امن منصوبے کا اعلان کیا ہے اس کا مقصد جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ فلسطینیوں کو اسرائیل کا غلام بنانا اور حماس کی مزاحمت کو ختم کرنا ہے۔ اسرائیل اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود حماس کو ختم کرنے میں ناکام رہا اب وہ امریکی امن منصوبے کی آڑ میں یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمام عرب ملکوں نے اس منصوبے کی حمایت کردی ہے، اس طرح حماس کی قیادت اگر اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کسی عرب ملک میں پناہ لینا چاہے تو اسے پناہ نہیں ملے گی۔ حماس نے فی الحال امریکی منصوبے پر مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ عرب حکمرانوں کے ذریعے اسے ٹھکانے لگادے گا۔ پاکستان کی حکمران قیادت بھی امریکی منصوبے کی پرجوش حامی ہے۔ امریکی منصوبے میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو بھی نظر انداز کردیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل کسی فلسطینی ریاست کے حق میں نہیں ہے۔ امریکی منصوبے کا واحد مقصد غزہ پر اسرائیل کی بالادستی قائم کرنا ہے۔

اب آتے ہیں صمود فلوٹیلا کی طرف۔ یہ امدادی بحری بیڑہ جو غزہ کا غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرہ توڑنے کے لیے بین الاقوامی سول سوسائٹی کے زیر اہتمام روانہ ہوا تھا اگرچہ طویل سمندری سفر کرنے کے بعد اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے لیکن اسرائیلی فوجوں نے اس کا محاصرہ کرکے اس میں موجود تمام رضا کاروں کو حراست میں لے لیا ہے، اس بحری بیڑے میں امدادی سامان سے بھری ہوئی پچاس کشتیاں ہیں جو چوالیس سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم ملکوں کی نمائندگی کررہی ہیں۔ ان میں پاکستان سے ہمارے سابق سینیٹر مشتاق احمد صاحب بھی شامل ہیں، جو ہمیں انٹرنیٹ کے ذریعے اس سفر سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرتے رہے۔ صمود فلوٹیلا کئی مرتبہ طوفان میں گھرا لیکن اس نے سفر جاری رکھا، بالآخر اپنی منزل تک پہنچ گیا، پھر اسرائیلی فوجوں نے دھاوا بول دیا اور سب کو پکڑ کر لے گئی۔ اس پر پوری دنیا میں احتجاج ہورہا ہے۔ جماعت اسلامی نے پاکستان میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا ہے لیکن اسرائیل وہ بے غیرت ملک ہے جو عالمی احتجاج کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ اس نے اقوام عالم کو اپنے آگے بے بس بنا رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فساد کی اصل جڑ امریکا ہے، اسرائیل امریکا کے کھونٹے پر ناچ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران نے امریکا کو ’’شیطان کبیر‘‘ قرار دیا ہے۔ جب تک ’’شیطان کبیر‘‘ کا بندوبست نہیں ہوتا یہ دنیا اسی طرح فسادات سے بھڑکتی رہے گی۔

متین فکری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی امریکی منصوبے سلامتی کونسل دنیا میں ہے لیکن امن فوج کیا ہے گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان