شہیدوں کی قربانیوں پر ہزاروں حکومتیں قربان، پاکستان مخالف بولنے والے کو نہیں مانتے، حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ شہیدوں کی قربانیوں پر ہزاروں حکومتیں قربان ہیں، کوئی بھی اگر پاکستان مخالف بولے گا، ہم اس کو نہیں مانتے۔
راولپنڈی میں انجمن تاجران کی جانب سے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ تاجروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو تمام جہدوجہد چاہے جیل ہو یا تاجر یونین کی سیاست ہو یا قومی سیاست میں اتار چڑھاؤ میں ساتھ رہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان وینٹی لیٹر پر تھا لیکن آج دنیا میں دیکھیں ہر طرف پاکستان کا بول بالا ہے، مڈل ایسٹ، سیٹرل ایشیا میں قیادت کون کررہا ہے، یہ کیسی خارجہ پالیسی ہے کہ دنیا کی خواہش ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ان کے ملک آئے، یہ نتیجہ شہدا کی قربانیوں اور خلوص نیت سے محنت کی وجہ سے ہے۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ تمنا کرتے تھے 9 مئی ہوگا تو ہم اقتدار میں آجائیں گے، فلاں ملک کا صدر اقتدار میں آئے تو ہمیں بھی اقتدار مل جائے گا لیکن سب کیا ہوا، ہم نہ لاٹھی چارج نہ آنسو گیس کے سامنے رکے، قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حنیف عباسی آپ کے ساتھ ہے، پختون ،کشمیری ،سندھی سب ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں لیکن جو کہے گا کہ پاکستان کو نہیں مانتا ہم ان کو نہیں مانتے۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پنجاب کا مقابلہ کیوں نہ دیگر صوبوں سے کریں، ترقی کو کیوں ڈسکس نہ کریں، کیا پنڈی جو آج ہے وہ پہلے ایسا تھا، یہاں ٹرانسپورٹ نہیں تھی، تعلیمی و صحت کی سہولیات کیا تھیں، راولپنڈی سے نواز شریف اور مریم نواز کے کاموں کو نکال دیں تو راولپنڈی میں کیا بچتا ہے صرف پنڈ ہی بچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکڑک بسیں آر رہی ہیں خوبصورت اسٹاپ آرہے ہیں جب مائیں بہنیں سفر کریں گی تو کس کو اچھا نہیں لگے گا۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب 15 کو آئیں یا 16 کو آئیں، راولپنڈی حق ادا کرے گا۔
معرکہ حق پر بات کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہنا تھاکہ پاک فوج نے معرکہ حق میں ہندوستان کی بائیس چوکیوں پر قبضہ کیا، ہم نہیں کہتے دنیا کہتی ہے، پاکستان نے ہندوستان کے سات جہاز گرائے اور جب انھوں نے نور خان بیس پر مزائل مارا تو پھر ہم نے بھی انکو گھس کر مارا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے غیور جوانوں کو سلام جنہوں نے ہماری جان ۔مال اور عزت کو محفوظ رکھا، ہندوستان جان لے اگر وہ کسی خام خیالی میں ہے تو ہم آج بھی تیار ہیں کیونکہ ہے جہان تگ دو میں غیرت بڑی چیز۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ خوارج جب فورسز پر حملے کریں گے تو وہ غدار وطن ہوں گے ہم پاکستان کو ترقی کی جانب لے جارہے ہیں، سعودیہ کا وفد آرہا ہے، دنیا یہاں آرہی ہے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے، پاکستان ہے تو ہم ہیں، ریل تو ویسے ہی تمام پاکستان کو جوڑتی ہے، انشاء اللہ پاکستان قائم و دائم رہے گا۔
تقریب سے ممبر قومی اسمبلی دانیال تنویر چودہری اور انجمن تاجران کے رہمنا شاہد غفور پراچہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ کو نہیں نے کہا
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس