data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد : دفترِ خارجہ نے اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے پاکستانی شہریوں، بالخصوص سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی واپسی سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ محفوظ اور خیریت سے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق  ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تمام گرفتار پاکستانی شہریوں کی سلامتی اور جلد واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع کے ذریعے تصدیق حاصل کی ہے کہ مشتاق احمد خان اس وقت اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں محفوظ ہیں، مقامی قانونی طریقہ کار کے تحت انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جیسے ہی ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے، ان کی واپسی کے اقدامات فوری بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان اسرائیلی تحویل میں موجود اپنے شہریوں کی تحفظ، قانونی معاونت اور جلد رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کر رہی ہے۔

 ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی پاکستانی کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بیرونِ ملک مقیم تمام شہریوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے پرعزم ہے،  وزارتِ خارجہ اس سے قبل بھی اُن پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کر چکی ہے جنہوں نے پہلے مرحلے میں صمود فلوٹیلاسے علیحدگی اختیار کی تھی۔

 ترجمان نے ان ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستانی شہریوں کی بازیابی اور واپسی میں عملی تعاون فراہم کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور توقع ظاہر کی کہ آئندہ چند دنوں میں وطن واپسی کا عمل مکمل ہو جائے گا، اسرائیلی افواج کی جانب سے انسانی ہمدردی پر مبنی مشن گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکاء کو گرفتار کرنا بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ  پاکستان اس اقدام کی سخت مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ تمام گرفتار شہریوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستانی شہریوں شہریوں کی

پڑھیں:

سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔

متعلقہ مضامین

  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان