اسلام آباد:

دفتر خارجہ نے اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دیگر پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق بیان جاری کیا ہے۔

صمود فلوٹیلا میں سوار پاکستانی شہریوں سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ  ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع کے ذریعے ہم نے تصدیق کی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں محفوظ اور خیریت سے ہیں۔

ہمیں مزید آگاہ کیا گیا ہے کہ مقامی قانونی طریقہ کار کے تحت سینیٹر مشتاق احمد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جب ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے تو ان کی واپسی کو فوری بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے تاکہ اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں کی سلامتی اور فوری واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزارت خارجہ پہلے ہی اُن افراد کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات کر چکی ہے جنہوں نے پہلے مرحلے میں فلوٹیلا سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ اس سلسلے میں ہم اُن برادر ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے شہریوں کی واپسی میں مدد فراہم کی۔

حکومت پاکستان بیرونِ ملک اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں واپسی کا یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مشتاق احمد

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش