61 سال پہلے ممبئی آکر بے گھر اور بھوکا رہا، جاوید اختر کا اپنے کیرئر کے بارے میں جذباتی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے ممبئی پہنچنے کے اپنے 61 سال مکمل ہونے پر جذباتی پیغام شیئر کیا۔
جاوید اختر نے ایکس پر لکھا کہ 4 اکتوبر 1964 کو ایک 19 سالہ لڑکا بمبئی سینٹرل اسٹیشن پر اترا تھا، جیب میں صرف 27 نیا پیسہ تھا۔ بے گھر ہونے، بھوک اور بے روزگاری کے دن دیکھے، لیکن جب اپنی زندگی کا مجموعہ دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ زندگی نے مجھ پر بہت مہربانی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’ہندوستانی پیسہ ڈوبے گا‘، سردار جی 3 کی بھارت میں پابندی پر جاوید اختر بھی بول پڑے
انہوں نے لکھا کہ اس کے لیے میں ممبئی، مہاراشٹر، اپنے ملک اور ان سب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے کام کو قبول کیا۔ شکریہ، بہت شکریہ۔
On 4th October 1964 a 19 year old boy had disembarked at Bombay central station with 27 naya paisa in his pocket .
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 4, 2025
جاوید اختر نے اپنی حالیہ گفتگو میں کامیابی کے بارے میں بھی خیالات کا اظہار کیا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامیابی صرف محنت یا قسمت کا نتیجہ نہیں بلکہ دونوں اپنی اپنی جگہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے زندگی کو رمی کے کھیل سے تشبیہ دی جس میں حالات اور محنت دونوں کی اہمیت ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکار بالی ووڈ جاوید اختر ممبئی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اداکار بالی ووڈ جاوید اختر جاوید اختر
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔