کراچی میں ڈاکو راج، ایک اور شہری مزاحمت پر زندگی کی بازی ہار گیا، رواں سال کی تعداد 67 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
شہر میں جاری ڈاکو راج کے ڈاکوؤں نے ایک اور شہری کی جان لے لی، جس کے بعد رواں سال میں اب تک ڈکیتی مزاحمت پر مارے جانے والے شہریوں کی تعداد 67 ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ ویسٹ اقبال مارکیٹ اورنگی ٹاؤن میں چند روز کے دوران ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک اور شہری کے قتل نے پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔
مقتول دکاندار نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ڈاکو سے اسلحہ چھین کر اسے فائرنگ کر نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا جسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔
اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ خلیل مارکیٹ کے علاقے میں دنداناتے ہوئے ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر ایک اور شہری کو موت کے گھاٹ اتار دیا جس کی شناخت 35 سالہ نور عالم ولد شیر عالم کے نام سے کی گئی۔
اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کے مطابق اقبال مارکیٹ تھانے کے علاقے خلیل مارکیٹ میں گیس سلینڈر کی دکان پر مسلح ملزمان ڈکیتی کی کوشش کر رہے تھے کہ اس دوران دکاندار نور عالم نے مزاحمت کی تو ملزمان نے فائرنگ کر کے اسے زخمی کر دیا تاہم زخمی دکاندار نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوران مزاحمت ایک ملزم سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کر کے اسے شدید زخمی کر دیا جس کی شناخت عبدالرحیم ولد محمد اسلم کے نام سے کی گئی۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے 30 بور پستول ، گولیاں اور 3 چلیدہ خول ملے ہیں جبکہ زخمی دکاندار اور گرفتار ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ گرفتار ملزم عادی جرائم پیشہ اور اس سے قبل بھی قتل ، پولیس مقابلہ ، ڈکیتی اور اسلحہ کے مقدمات میں گرفتار ہوچکا ہے۔
ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو کر دکاندار کے جاں بحق ہونے پر علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا اور انھوں نے پولیس کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں لوٹ مار کی وارداتوں پر قابو پانے میں سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تاکہ مکینوں کو بھی احساس تحفظ ہو سکے۔
حالیہ واقعے کے بعد رواں سال شہر میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 67 ہوگئی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل اسی تھانے کی حدود میں سفاک ڈاکوؤں نے گھر کی دہلیز پر معصوم بیٹے کے سامنے باپ کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیا تھا اور اس واقعے کے بعد ایس ایچ او اقبال مارکیٹ کو معطل کر کے ایک درجے تنزلی بھی کر دی گئی تھی
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقبال مارکیٹ ایک اور شہری کے دوران ڈاکوو ں کر دیا
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔