مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کا کہنا ہے کہ ملکی ایل این جی مارکیٹ کو اسٹرکچرل، ریگولیٹری اور مسابقتی چیلنجز درپیش ہیں، ایل این جی درآمد، اسٹوریج اور ڈسٹری بیوشن میں سرکاری ملکیتی اداروں کی اجارہ داری ہے سخت لائسنسنگ و ٹیرف قواعد نجی اداروں کی مارکیٹ میں شمولیت میں رکاوٹ ہیں۔

سی سی پی نے تجویز دی ہے کہ سینٹرل کوآرڈینیشن کمیٹی کے ذریعے درآمدی کلیئرنس کے لیے ون اسٹاپ شاپ کا قیام ضروری ہے، ایل این جی ٹرمینلز اور پائپ لائنز کے لیے ٹی پی اے قوانین کا فوری نفاذ ہونا چاہیے۔

اس حوالے سیکمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے ایل این جی سیکٹر میں مسابقت کی صورتحال پر جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے۔

رپورٹ میں چیلنجز کی نشاندہی اور مسائل کے حل کے لیے سفارشات پیش کی گئی ہیں ملکی ایل این جی مارکیٹ کو اسٹرکچرل، ریگولیٹری اور مسابقتی چیلنجز درپیش ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایل این جی درآمد، اسٹوریج اور ڈسٹری بیوشن میں سرکاری ملکیتی اداروں کی اجارہ داری ہے سخت لائسنسنگ و ٹیرف قواعد نجی اداروں کی مارکیٹ میں شمولیت میں رکاوٹ ہیں، انفراسٹرکچر تک محدود رسائی، ٹی پی اے قوانین کا سست نفاذ بڑی رکاوٹیں ہیں۔

ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر سے جنوری 2024 میں گردشی قرضہ 2866 ارب تک جاپہنچا، سینٹرل کوآرڈینیشن کمیٹی کے ذریعے درآمدی کلیئرنس کے لیے ون اسٹاپ شاپ کا قیام ضروری ہے۔

ایل این جی ٹرمینلز اور پائپ لائنز کے لیے ٹی پی اے قوانین کا فوری نفاذ ہونا چاہیے، سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کو الگ کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق 3 سالہ منصوبہ بناکر گیس کی طلب کی پیش گوئی بہتر، نقصانات کم کیے جاسکتے ہیں۔

رپورٹ کا مقصد پالیسی سازی اور اصلاحاتی اقدامات کی راہ ہموار کرنا ہے، چیئرمین مسابقتی کمیشن آف پاکستان(سی سی پی)ڈاکٹر کبیر سدھو کا کہنا ہے کہ سفارشات پر عمل سے مارکیٹ تک رسائی، نجی سیکٹر کی شمولیت میں اضافہ ممکن ہے۔

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے 'پاکستان میں ایل این جی سیکٹر میں مسابقت کی صورتحال' پر ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملکی ایل این جی مارکیٹ کو درپیش اسٹرکچرل، ریگولیٹری اور مسابقتی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے۔

کمیشن کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ نے وزارت خزانہ کی ہدایت پر یہ جائزہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ جیسے سرکاری ملکیتی اداروں کے ایل این جی مارکیٹ، ویلیو چین اور اس شعبے کی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات کا تجزیہ بھی شامل کیا گیا ہے۔

جائزہ رپورٹ میں ایل این جی سیکٹر کو درپیش اہم چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے، رپورٹ میں جن دیگر چیلنجز کا ذکر کیا گیا ہے ان میں انفراسٹرکچر تک محدود رسائی، تھرڈ پارٹی ایکسیس (ٹی پی اے) قوانین کے نفاذ میں سست رفتاری اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور آر ایل این جی کی منتقلی میں تاخیر کے باعث گردشی قرضے کا (جنوری 2024 کے مطابق) 2866 ارب روپے تک پہنچ جانا شامل ہیں۔

کمپٹیشن کمیشن نے ایل این جی سیکتر کی بہتری کے لیے اپنی رپورٹ میں عالمی بینک کی تجویز کردہ مارکیٹس و مسابقتی پالیسی کی روشنی میں چند سفارشات بھی پیش کی ہیں۔

ان میں سینٹرل کوآرڈینیشن کمیٹی کے ذریعے ایل این جی کی درآمدی کلیئرنس کے لیے ون اسٹاپ شاپ کا قیام، ایل این جی ٹرمینلز اور پائپ لائنز کے لیے ٹی پی اے قوانین کا فوری نفاذ، یکساں مواقع کی فراہمی کے لیے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کو الگ کرنا اور تین سالہ منصوبہ تشکیل دیکر گیس کی طلب کی درست پیش گوئی کو بہتر اور نقصانات (یو ایف جی) کو کم کرنا شامل ہیں۔

ایل این جی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ اس جائزہ رپورٹ کا مقصد پالیسی سازی میں مدد دینا اور اصلاحاتی اقدامات کی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ مارکیٹ تک رسائی کو آسان، نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ اور انرجی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایل این جی مارکیٹ میں جدت اور بہتری کے لیے منصفانہ مقابلے کا فروغ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

کمپٹیشن کمیشن نے اپنی جائزہ رپورٹ کو قابل عمل بنانے کے لیے جاپان سمیت مختلف ممالک کے تجربات سے استفادہ کیا ہے تاکہ ایل این جی سیکتر کی مرحلہ وار لبرلائزیشن، انفراسٹرکچر ملکیت کی تقسیم اور تمام فریقین کے لیے منصفانہ رسائی کی اہمیت کو موٴثر طور پر اجاگر کیا جاسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹی پی اے قوانین کا کمیشن آف پاکستان اور ڈسٹری بیوشن کمپٹیشن کمیشن جائزہ رپورٹ شمولیت میں پائپ لائنز رپورٹ میں اداروں کی جی سیکٹر سی سی پی کے لیے

پڑھیں:

ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے ڈیٹا بیس کے ہیک ہونے اور ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو جھوٹا، گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دےدیا . ترجمان ایچ ای سی کے مطابق سائبر سیکیورٹی آپریشن سینٹر نے سوشل میڈیا پر وائرل دعوؤں کی فوری تحقیقات مکمل کر لی ہیں، جن سے ثابت ہوا ہے کہ آن لائن گردش کرنے والا مبینہ ڈیٹا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن یا ویریفکیشن سسٹم کا حصہ نہیں ہے۔ ترجمان ایچ ای سی نے ایچ ای سی ڈیٹا بیس ہیک ہونے کی سوشل میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مزیدکہاکہ سوشل میڈیا پر وائرل ریکارڈز کا ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈیٹابیس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے عوام سے سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق جھوٹی افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ایچ ای سی کا ڈیٹابیس اور ڈگری ویریفکیشن سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع