data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251005-11-15
لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ اسرائیل مسلسل دو سالوں سے غزہ میں بم بر سا رہا ہے جس میں 65ہزار سے زائد معصوم بچے، خواتین اور نہتے مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا ہے، غزہ کو نیتن یاہو نے مقتل گاہ میں تبدیل کر دیا ہے، 22لاکھ کی آبادی محصور اور بے یارو مددگار کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزار رہی ہے،انہیں فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے امداد کو روکنا بد ترین جنگی جرائم میں سے ایک ہے۔’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے شرکا کو گرفتار کرنا شرمناک اقدام،فوری طور پر انسانی حقوق کے کارکنوں کو رہاکروایا جائے۔ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لئے بیانات سے آگے بڑھ کر عملاً اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیوں کے ذریعے بیس نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کروانا چاہتا ہے، جو کہ کسی بھی طور پر کامیاب نہیں ہو گا، جب تک غزہ کو اسرائیلی فوج خالی نہیں کرتی اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا۔ غزہ کا کنٹرول وہاں کے لوگوں کو ملنا چاہیے۔حکومت پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کی مدعا سرائی میں مشغول ہونے کے بجائے، 25 کروڑ عو ام کی ترجمانی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ہم غزہ کے مسلئے پر متحد اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب شہیدوں کا اور مظلوموں کا خون رنگ لائیگا۔ اسرائیل اور امریکا کے غزہ پر قبضے کے خلاف مسلم حکمران بے حسی ختم کریں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اول دن سے اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔غزہ محض ایک خطہ نہیں بلکہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور اس کی حرمت پر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہر دم تیار ہیں۔ ساری دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ اصل دہشت گرد کون ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان