’’ بکھری ہے میری داستان ‘‘
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
’’بکھری ہے میری داستان‘‘ محمد اظہارالحق کی خود نوشت کا پہلا حصہ ہے جو حال ہی میں شایع ہوا‘ضخامت کم رکھنے کے لیے انھوں نے آپ بیتی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے‘ ان کا موقف ہے کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے‘ توجہ کا پھیلاؤ کم ہو گیا ہے‘ اس لیے کتاب کو ضخیم نہیں ہونا چاہیے۔
میں ان سے اتفاق نہیں کرتا کیوں کہ موٹی کتابوں اور طویل ڈرامہ سیریز کا وقت واپس آ چکا ہے‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو ہیری پورٹرز سے لے کر منی ہیسٹ تک دیکھ لیں‘ آپ مان جائیں گے بہرحال اظہار صاحب کی یہ خود نوشت روایتی خود نوشت نہیں ہے‘ انھوں نے اکبر الہ آبادی کی بتائی ہوئی اس ترتیب کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔
’’بی اے کیا‘ نوکر ہوئے‘ پنشن ملی‘ پھر مر گئے‘‘۔اکثر خود نوشتیں اس طرح لکھی جاتی ہیں جیسے تاریخ میں بادشاہوں کا حال لکھا ہوتا ہے‘ پیدائش‘ لڑکپن جوانی اور پھربڑھاپا۔
اظہار صاحب نے ایسا نہیں کیا‘ انھوں نے آغاز ڈھاکا سے کیا ہے جہاں وہ انیس برس کی عمر میں ایم اے کرنے گئے تھے ۔ تین سالہ قیام کے دوران ان کا رو یہ دوسرے مغربی پاکستانیوں یا پنجابیوں سے مختلف تھا‘ انھوں نے بنگالی بھائیوں کی زبان سیکھی‘ ان کا لباس پہنا‘ ان کا کھانا کھایا‘ بنگالی دوستوں نے بھی انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا‘ یہ انھیں اپنے گھروں میں لے کر گئے اور یہ آج تک ان سے رابطے میں بھی ہیں۔
اگرچہ یہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پہلے مغربی پاکستان وپس آگئے تھے مگر ٹوٹنے کا عمل ان کی موجودگی میں شروع ہو چکا تھا۔یہ اس عمل کو بہت سے دوسرے لوگوں کے برعکس بھانپ چکے تھے۔
کتاب کے پہلے اکسٹھ صفحات مشرقی پاکستان میں قیام کے بارے میں ہیں جب کہ ان میں سے آخری آٹھ دس صفحات میں انھوں نے علیحدگی کا تجزیہ پیش کیا ‘ اس تجزیے سے آپ اتفاق کریں یا اختلاف مگر اس کا مطالعہ لازمی ہے‘ ایک فقرہ ان کا غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
’’ کسی بھی سیاسی یا اخلاقی قانون کی رُو سے عوامی لیگ کو مرکز میں حکومت بنانے کا حق حاصل تھا‘کیا مغربی پاکستانی یہ توقع کر رہے تھے کہ مشرقی پاکستانیوں کو ان کے جائز حق سے محروم کیا گیا تو وہ جواب میں پھولوں کی پتیاں نچھاور کریں گے؟ ‘‘ ۔
اظہار صاحب نے اپنے گاؤں اور ننھیال کے گاؤں کا جس انداز سے ذکر کیا ہے یہ ہمارے لٹریچر کا شان دار حصہ ثابت ہو گا‘ ان کے دادا کوانگریزی عہد میں تحصیل کا میرج انسپکٹر مقرر کیا گیا تھا مگر ان کا اصل کارنامہ درس و تدریس تھا‘۔
پورے بر صغیر سے طلباء ان سے فارسی ادب اور فقہ پڑھنے آتے تھے‘ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان طلباء کی تعداد دو سو سے زیادہ تھی۔طالب علموں کو کتابیں داداجان اپنی لائبریری سے فراہم کرتے تھے اور کھانا گاؤں والے‘ یہ اُس دور کی یونی ورسٹیاں تھیں۔
ان کے گاؤں میں طلباء کا الگ قبرستان آج بھی ماضی کی داستان کہہ رہا ہے‘ گاؤں کی اُس زمانے کی زندگی کا خاکہ اظہار صاحب نے بے حد دل چسپ انداز میں کھینچا ہے‘ وہ ایک مخلوط معاشرہ تھا‘خواتین بات چیت میں مردوں کے ساتھ شامل ہوتی تھیں۔
صحن میں سر شام چارپائیاں بچھا دی جاتی تھیں۔ان پر چادریں اور سرہانے رکھے جاتے تھے جن کے غلاف کڑھے ہوئے ہوتے تھے‘ہانڈی کے لیے ہر روز تازہ مصالحہ تیار کیا جاتا تھا‘نمک کی چٹانیں لائی جاتی تھیں‘انھیں توڑ کر پیسا جاتاتھا‘گائے یا بھینس کے آگے نمک کی چٹان رکھی جاتی جسے وہ چاٹتی رہتی تھی۔
بڑے بوڑھے جیب میں نمک کا ٹکڑا رکھتے تھے‘رمضان میں وہ مسجد میں اذان سے پہلے موجود ہوتے تھے‘جیسے ہی مغرب کی اذان ہوتی جیب سے نمک کا ٹکڑا نکالتے‘ چاٹ کر افطار کرتے پھر با جماعت نماز سے فارغ ہو کر گھروں کو جاتے اور معمول کا کھانا کھاتے۔
سر شام لالٹینوں کے شیشے صاف کیے جاتے اگر شیشے میں کریک آتا یا ٹوٹتا تو نیا شیشہ منگوانے سے پہلے اسے ہی سریش سے جوڑا جاتاتھا اور کافی عرصہ تک چلایا جاتاتھا‘یہ محض ایک جھلک ہے ورنہ اظہار صاحب نے اْس زمانے کی دیہاتی زندگی کی ایسی ایسی تصویریں کھینچی ہیں جو آج کی نسل کے لیے عجوبوں سے کم نہیں۔
اظہار صاحب نے اپنے بزرگوں کے حالات بھی بیان کیے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان میں لٹریچر بھی ہے‘ احترام بھی ‘ تاریخ بھی اور کہانی بھی‘ اظہارصاحب نے گھوڑ سواری بھی کی‘ گھوڑی کو پانی پلانے گاؤں سے باہر تالاب پر گئے۔
یہ ایسے مواقع پر زین کے بجائے گھوڑی پر محض کمبل ڈالتے تھے‘ نانا جان نے تاکید کی کہ گرمی شدید ہے‘ گھوڑی کو دوڑانا نہیں‘ اظہار صاحب نے گاؤں سے نکلتے ہی ایڑ لگا دی اور گھوڑی کو خوب دوڑایا‘ واپس آئے تو نانا جان کے پوچھنے پر صاف انکار کیا کہ نہیں دوڑایا‘ نانا جان نے کمبل ہٹایا تو گھوڑی پسینے سے شرابور تھی‘ نانا جان نے صرف اتنا کہا تم نے دوڑایا ہے۔
اظہار صاحب سیف الملوک سے گھگھی اور باز والی وہ کہانی زندگی بھر نہیں بھول سکے جسے ان کے بچپن میں ان کی امی جان اپنی مترنم آواز میں سنایاکرتی تھیں‘بزرگوں کی وفات کے حالات انھوں نے دلدوز اسلوب میں بیان کیے ہیں۔
پنڈی گھیب وہ قصبہ ہے جہاں ان کے والد صاحب ایک مدت اسکول میں فارسی پڑھاتے رہے اور مسجد میں فی سبیل اللہ قرآن پاک کا درس دیتے رہے‘ اظہارصاحب نے اس قصبے سے میٹرک کیا‘یہ قصبہ ساری زندگی ان کے دل سے نہیں نکلا‘یہ لکھتے ہیں یہ قصبہ آج بھی ان کے دل میں پوری رونق کے ساتھ آباد ہے‘ اس کی ہوائیں گرمیوں میں خنک اور سرما میں قابل برداشت تھیں۔
اس کی فضا میں معصومیت تھی‘اس کا پانی میٹھا تھا‘اس کے پکوان ناقابل فراموش تھے یہاں کا مکھڈی حلوہ پوری دنیا میں مشہور تھا‘اینٹوں کے فرش والی گلیاں کسی باغ کی کیاریوں سے کم نہ تھیں‘ اس قصبے کے چند کرداروں کا ذکر جس طرح انھوں نے کیا ہے یہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
اظہار صاحب کا تعلق پاکستان سول سروس سے تھا‘ چھتیس برس کی ملازمت کا احوال انھوں نے کہانی کے انداز میں یوں بیان کیا کہ پڑھنے والا اکتاتا نہیں‘ یہ پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس سے تھے یوں سمجھیے سونے کی کان پر بیٹھے رہے مگر دامن جھاڑ کر باہر آئے یوں کہ دامن میں کچھ بھی نہ تھا۔
کچھ عرصہ’’ ڈیفنس پر چیز ‘‘ کی ادائیگیوں کے آل ان آل بھی رہے‘ اس سے زیادہ ادائیگیاں کسی اور ادارے میں نہیںتھیں‘اظہار صاحب نے ایسا نظام بنایا کہ تاجر وں ‘ ٹھیکیداروں اور سپلائرز کو گھر بیٹھے ادائیگیاں ہوئیں‘ یہ لوگ انھیں دیکھنے آتے تھے کہ یہ کون ‘ بد دماغ‘ سر پھرا ہے جو ملتا ہے نہ کچھ لیتا ہے۔
عسکری ہیلمٹ بنانے والے ایک صنعت کار نے حکومت کو خط لکھا کہ اس نے اٹھائیس سالہ وابستگی میں پہلی بار ایک سسٹم دیکھا ہے جو کرپشن سے پاک ہے اور خود کار ہے‘ ملازمت کے دوران اظہار صاحب نے جو کچھ سیکھا اسے ایک الگ باب میں بیان کیاہے‘ سول سروس کے ہر رکن کو یہ باب پڑھنا چاہیے۔
نئی نسل کے لیے اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے‘ انھوں نے اپنی کم زوریوں کا بھی برملا اظہار کیا ہے‘سرکاری طور پر جن ملکوں میں گئے ان کا احوال بھی دل چسپ پیرائے میں بیان کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اظہار صاحب نے ا انھوں نے ا کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی