’’ بکھری ہے میری داستان ‘‘
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
’’بکھری ہے میری داستان‘‘ محمد اظہارالحق کی خود نوشت کا پہلا حصہ ہے جو حال ہی میں شایع ہوا‘ضخامت کم رکھنے کے لیے انھوں نے آپ بیتی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے‘ ان کا موقف ہے کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے‘ توجہ کا پھیلاؤ کم ہو گیا ہے‘ اس لیے کتاب کو ضخیم نہیں ہونا چاہیے۔
میں ان سے اتفاق نہیں کرتا کیوں کہ موٹی کتابوں اور طویل ڈرامہ سیریز کا وقت واپس آ چکا ہے‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو ہیری پورٹرز سے لے کر منی ہیسٹ تک دیکھ لیں‘ آپ مان جائیں گے بہرحال اظہار صاحب کی یہ خود نوشت روایتی خود نوشت نہیں ہے‘ انھوں نے اکبر الہ آبادی کی بتائی ہوئی اس ترتیب کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔
’’بی اے کیا‘ نوکر ہوئے‘ پنشن ملی‘ پھر مر گئے‘‘۔اکثر خود نوشتیں اس طرح لکھی جاتی ہیں جیسے تاریخ میں بادشاہوں کا حال لکھا ہوتا ہے‘ پیدائش‘ لڑکپن جوانی اور پھربڑھاپا۔
اظہار صاحب نے ایسا نہیں کیا‘ انھوں نے آغاز ڈھاکا سے کیا ہے جہاں وہ انیس برس کی عمر میں ایم اے کرنے گئے تھے ۔ تین سالہ قیام کے دوران ان کا رو یہ دوسرے مغربی پاکستانیوں یا پنجابیوں سے مختلف تھا‘ انھوں نے بنگالی بھائیوں کی زبان سیکھی‘ ان کا لباس پہنا‘ ان کا کھانا کھایا‘ بنگالی دوستوں نے بھی انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا‘ یہ انھیں اپنے گھروں میں لے کر گئے اور یہ آج تک ان سے رابطے میں بھی ہیں۔
اگرچہ یہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پہلے مغربی پاکستان وپس آگئے تھے مگر ٹوٹنے کا عمل ان کی موجودگی میں شروع ہو چکا تھا۔یہ اس عمل کو بہت سے دوسرے لوگوں کے برعکس بھانپ چکے تھے۔
کتاب کے پہلے اکسٹھ صفحات مشرقی پاکستان میں قیام کے بارے میں ہیں جب کہ ان میں سے آخری آٹھ دس صفحات میں انھوں نے علیحدگی کا تجزیہ پیش کیا ‘ اس تجزیے سے آپ اتفاق کریں یا اختلاف مگر اس کا مطالعہ لازمی ہے‘ ایک فقرہ ان کا غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
’’ کسی بھی سیاسی یا اخلاقی قانون کی رُو سے عوامی لیگ کو مرکز میں حکومت بنانے کا حق حاصل تھا‘کیا مغربی پاکستانی یہ توقع کر رہے تھے کہ مشرقی پاکستانیوں کو ان کے جائز حق سے محروم کیا گیا تو وہ جواب میں پھولوں کی پتیاں نچھاور کریں گے؟ ‘‘ ۔
اظہار صاحب نے اپنے گاؤں اور ننھیال کے گاؤں کا جس انداز سے ذکر کیا ہے یہ ہمارے لٹریچر کا شان دار حصہ ثابت ہو گا‘ ان کے دادا کوانگریزی عہد میں تحصیل کا میرج انسپکٹر مقرر کیا گیا تھا مگر ان کا اصل کارنامہ درس و تدریس تھا‘۔
پورے بر صغیر سے طلباء ان سے فارسی ادب اور فقہ پڑھنے آتے تھے‘ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان طلباء کی تعداد دو سو سے زیادہ تھی۔طالب علموں کو کتابیں داداجان اپنی لائبریری سے فراہم کرتے تھے اور کھانا گاؤں والے‘ یہ اُس دور کی یونی ورسٹیاں تھیں۔
ان کے گاؤں میں طلباء کا الگ قبرستان آج بھی ماضی کی داستان کہہ رہا ہے‘ گاؤں کی اُس زمانے کی زندگی کا خاکہ اظہار صاحب نے بے حد دل چسپ انداز میں کھینچا ہے‘ وہ ایک مخلوط معاشرہ تھا‘خواتین بات چیت میں مردوں کے ساتھ شامل ہوتی تھیں۔
صحن میں سر شام چارپائیاں بچھا دی جاتی تھیں۔ان پر چادریں اور سرہانے رکھے جاتے تھے جن کے غلاف کڑھے ہوئے ہوتے تھے‘ہانڈی کے لیے ہر روز تازہ مصالحہ تیار کیا جاتا تھا‘نمک کی چٹانیں لائی جاتی تھیں‘انھیں توڑ کر پیسا جاتاتھا‘گائے یا بھینس کے آگے نمک کی چٹان رکھی جاتی جسے وہ چاٹتی رہتی تھی۔
بڑے بوڑھے جیب میں نمک کا ٹکڑا رکھتے تھے‘رمضان میں وہ مسجد میں اذان سے پہلے موجود ہوتے تھے‘جیسے ہی مغرب کی اذان ہوتی جیب سے نمک کا ٹکڑا نکالتے‘ چاٹ کر افطار کرتے پھر با جماعت نماز سے فارغ ہو کر گھروں کو جاتے اور معمول کا کھانا کھاتے۔
سر شام لالٹینوں کے شیشے صاف کیے جاتے اگر شیشے میں کریک آتا یا ٹوٹتا تو نیا شیشہ منگوانے سے پہلے اسے ہی سریش سے جوڑا جاتاتھا اور کافی عرصہ تک چلایا جاتاتھا‘یہ محض ایک جھلک ہے ورنہ اظہار صاحب نے اْس زمانے کی دیہاتی زندگی کی ایسی ایسی تصویریں کھینچی ہیں جو آج کی نسل کے لیے عجوبوں سے کم نہیں۔
اظہار صاحب نے اپنے بزرگوں کے حالات بھی بیان کیے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان میں لٹریچر بھی ہے‘ احترام بھی ‘ تاریخ بھی اور کہانی بھی‘ اظہارصاحب نے گھوڑ سواری بھی کی‘ گھوڑی کو پانی پلانے گاؤں سے باہر تالاب پر گئے۔
یہ ایسے مواقع پر زین کے بجائے گھوڑی پر محض کمبل ڈالتے تھے‘ نانا جان نے تاکید کی کہ گرمی شدید ہے‘ گھوڑی کو دوڑانا نہیں‘ اظہار صاحب نے گاؤں سے نکلتے ہی ایڑ لگا دی اور گھوڑی کو خوب دوڑایا‘ واپس آئے تو نانا جان کے پوچھنے پر صاف انکار کیا کہ نہیں دوڑایا‘ نانا جان نے کمبل ہٹایا تو گھوڑی پسینے سے شرابور تھی‘ نانا جان نے صرف اتنا کہا تم نے دوڑایا ہے۔
اظہار صاحب سیف الملوک سے گھگھی اور باز والی وہ کہانی زندگی بھر نہیں بھول سکے جسے ان کے بچپن میں ان کی امی جان اپنی مترنم آواز میں سنایاکرتی تھیں‘بزرگوں کی وفات کے حالات انھوں نے دلدوز اسلوب میں بیان کیے ہیں۔
پنڈی گھیب وہ قصبہ ہے جہاں ان کے والد صاحب ایک مدت اسکول میں فارسی پڑھاتے رہے اور مسجد میں فی سبیل اللہ قرآن پاک کا درس دیتے رہے‘ اظہارصاحب نے اس قصبے سے میٹرک کیا‘یہ قصبہ ساری زندگی ان کے دل سے نہیں نکلا‘یہ لکھتے ہیں یہ قصبہ آج بھی ان کے دل میں پوری رونق کے ساتھ آباد ہے‘ اس کی ہوائیں گرمیوں میں خنک اور سرما میں قابل برداشت تھیں۔
اس کی فضا میں معصومیت تھی‘اس کا پانی میٹھا تھا‘اس کے پکوان ناقابل فراموش تھے یہاں کا مکھڈی حلوہ پوری دنیا میں مشہور تھا‘اینٹوں کے فرش والی گلیاں کسی باغ کی کیاریوں سے کم نہ تھیں‘ اس قصبے کے چند کرداروں کا ذکر جس طرح انھوں نے کیا ہے یہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
اظہار صاحب کا تعلق پاکستان سول سروس سے تھا‘ چھتیس برس کی ملازمت کا احوال انھوں نے کہانی کے انداز میں یوں بیان کیا کہ پڑھنے والا اکتاتا نہیں‘ یہ پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس سے تھے یوں سمجھیے سونے کی کان پر بیٹھے رہے مگر دامن جھاڑ کر باہر آئے یوں کہ دامن میں کچھ بھی نہ تھا۔
کچھ عرصہ’’ ڈیفنس پر چیز ‘‘ کی ادائیگیوں کے آل ان آل بھی رہے‘ اس سے زیادہ ادائیگیاں کسی اور ادارے میں نہیںتھیں‘اظہار صاحب نے ایسا نظام بنایا کہ تاجر وں ‘ ٹھیکیداروں اور سپلائرز کو گھر بیٹھے ادائیگیاں ہوئیں‘ یہ لوگ انھیں دیکھنے آتے تھے کہ یہ کون ‘ بد دماغ‘ سر پھرا ہے جو ملتا ہے نہ کچھ لیتا ہے۔
عسکری ہیلمٹ بنانے والے ایک صنعت کار نے حکومت کو خط لکھا کہ اس نے اٹھائیس سالہ وابستگی میں پہلی بار ایک سسٹم دیکھا ہے جو کرپشن سے پاک ہے اور خود کار ہے‘ ملازمت کے دوران اظہار صاحب نے جو کچھ سیکھا اسے ایک الگ باب میں بیان کیاہے‘ سول سروس کے ہر رکن کو یہ باب پڑھنا چاہیے۔
نئی نسل کے لیے اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے‘ انھوں نے اپنی کم زوریوں کا بھی برملا اظہار کیا ہے‘سرکاری طور پر جن ملکوں میں گئے ان کا احوال بھی دل چسپ پیرائے میں بیان کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اظہار صاحب نے ا انھوں نے ا کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔