— فائل فوٹو

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں سوار پاکستانی شہریوں کی حفاظت اور واپسی کے لیے عالمی شراکت داروں سے رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض فورسز کی حراست میں خیریت سے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مقامی قانونی ضوابط کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ عدالت سے ڈی پورٹیشن آرڈر جاری ہونے کے بعد ان کی واپسی فوری بنیادوں پر ممکن بنائی جائے گی۔

سابق سینیٹر مشتاق کا حراست سے قبل غزہ کے سمندر سے آخری پیغام

گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ان برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستانی شہریوں کی واپسی میں تعاون کیا۔ حکومت پاکستان اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔

اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے ترک صحافی کا بیان:

اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے ترک صحافی کا کہنا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں کو اسرائیلی حراست میں تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فورسز کو چکمہ دینے والے عزیر نظامی کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟

غزہ کی طرف امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے دوران اسرائیلی نیوی کو چکمہ دے کر بچ نکلنے والی ایک پاسکتانی کشتی کے مسافر عزیر نظامی نے اپنے اگلے لائحے عمل سے متعلق آگاہ کر دیا۔

ترک صحافی نے رہائی کے بعد بتایا کہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ پر بھی تشدد کیا گیا اور اسرائیلی جھنڈا چومنے پر مجبور کیا گیا۔

واضح رہے کہ 450 سماجی کارکن اب بھی اسرائیلی حراست میں موجود ہیں، 137 سماجی کارکن رہائی کے بعد استنبول پہنچ گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سابق سینیٹر مشتاق اسرائیلی حراست کا کہنا ہے کہ صمود فلوٹیلا

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے