آزاد کشمیر معاہدے کا کریڈٹ سیاسی قیادت کو جاتا ہے، سکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
ذرائع کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے متعلق ہماری سوچ سب کو معلوم ہے، بھارت کی طبیعت دوبارہ ٹھیک کرنی پڑی تو کر دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی صورتحال کے حل کا کریڈٹ سیاسی قیادت کو جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کے معاملے کو سیاسی طور پر ہی حل کیا جانا چاہے، اسرائیل سے متعلق پاکستان کا موقف تبدیل نہیں ہو سکتا، ابراہم معاہدے سے متعلق باتیں صرف پروپیگنڈا ہیں، پاکستان کے لوگوں کی خواہش کے خلاف نہیں جایا جا سکتا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے متعلق ہماری سوچ سب کو معلوم ہے، بھارت کی طبیعت دوبارہ ٹھیک کرنی پڑی تو کر دیں گے، معرکہ حق کے بعد بھارت نے اپنے دفاعی اخراجات بڑھا دیے۔ سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی میں قانونی تقاضے پورے کئے جا رہے ہیں، انہیں کورٹ مارشل کی کارروائی میں اپیل کا حق بھی حاصل ہو گا، ملک میں ہائبرڈ نظام نہیں، ایک ایسا نظام ہے جو آئین و قانون کے مطابق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ذرائع کا
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔