‘اس بار بھارت انشاءاللہ اپنے طیاروں کے ملبے میں دفن ہوگا’: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی سکیورٹی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار، ان شاءَ اللہ، بھارت اپنے طیاروں کے ملبے تلے دب جائے گا۔
اُنہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بھارتی فوجی و سیاسی قیادت کے بیانات اپنی کمزور ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوشش ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ شکست اتنی فیصلہ کن تھی کہ اس کا اسکور 0-6 رہا، اور اگر دوبارہ کوشش کی گئی تو نتیجہ اس سے بھی بدتر ہوگا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت میں عوامی ردِعمل اور حکومت کے خلاف رائے عامہ نے مودی سرکار کی ساکھ بری طرح متاثر کی ہے، اور اس دباؤ کا اثر قیادت کے بیانات میں دکھائی دے رہا ہے۔
خواجہ آصف نے اختتامی طور پر کہا کہ پاکستان ایک ریاستِ الٰہی کے نام پر قائم ہے اور اس کے محافظ اللہ کے سپاہی ہیں، اس لیے اس بار بھارت ان شاءَ اللہ اپنے طیاروں کے ملبے میں دفن ہوگا۔ اللہ اکبر۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔