ملک میں مزید بارش اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد / لاہور (رپورٹ) پاکستان کے مختلف حصوں میں متوقع مزید بارشوں کے باعث دریاؤں اچانک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس پر وفاقی اور صوبائی حکام نے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے۔ ساتھ ہی اطلاعات ہیں کہ بھارت بھی اپنے ڈیمز سے اضافی پانی چھو ڑنے کا امکان رکھتا ہے، جس سے راوی، جہلم اور ستلج کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔ ماہر موسمیات، آبی ماہرین اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے مشترکہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ نہ صرف قدرتی بہاؤ میں اضافے بلکہ انسانی مداخلت کی وجہ سے نقصان کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی ڈی پی ڈی ایم اے نے متوقع موسم کے لحاظ سے آگاہی جاری کی ہے کہ آئندہ 12 سے 48 گھنٹے میں ملک کے شمالی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ سندھ اور کراچی میں بھی بارشوں کے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پنجاب میں مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت اپنی ڈیمز سے اضافی پانی چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو راوی، ستلج اور جہلم ندیوں میں اچانک بہاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔پنجاب کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کتھیہ نے بتایا کہ وہ متعلقہ محکموں کے ذریعے ندی نالوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور ممکنہ گنجائش سے زیادہ بہاؤ کی صورت میں بروقت اقدمات کیے جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی محکمے الرٹ پر ہیں۔ آبپاشی، ریسکیو اور موسمیاتی اداروں نے فیلڈ ٹیمیں متحرک کر رکھی ہیںپنجاب میں ندی نالوں کی صفائی، بندشیں کھولنا اور بروقت نکاسی کے منصوبے زیرِ عمل ہیں۔عوام کو محتاط رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، خاص طور پر ندی کنارے گھروں سے دوری اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔یہ بارشوں کا نیا دور اور بھارت کی ممکنہ پانی ریلیز ایک اکٹھے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر حکومت وقت پر اقدامات نہ کرے، تو سنگین تباہی ممکن ہے۔ ضروری ہے کہ مقامی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے اور عوام شراکت داری سے کام کریں۔ بروقت پیش بندی، مربوط پلاننگ اور عوامی بیداری ہی اس ممکنہ بحران کو کم کرنے کی کلید ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔