data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد / لاہور (رپورٹ) پاکستان کے مختلف حصوں میں متوقع مزید بارشوں کے باعث دریاؤں اچانک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس پر وفاقی اور صوبائی حکام نے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے۔ ساتھ ہی اطلاعات ہیں کہ بھارت بھی اپنے ڈیمز سے اضافی پانی چھو ڑنے کا امکان رکھتا ہے، جس سے راوی، جہلم اور ستلج کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔ ماہر موسمیات، آبی ماہرین اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے مشترکہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ نہ صرف قدرتی بہاؤ میں اضافے بلکہ انسانی مداخلت کی وجہ سے نقصان کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی ڈی پی ڈی ایم اے نے متوقع موسم کے لحاظ سے آگاہی جاری کی ہے کہ آئندہ 12 سے 48 گھنٹے میں ملک کے شمالی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ سندھ اور کراچی میں بھی بارشوں کے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پنجاب میں مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت اپنی ڈیمز سے اضافی پانی چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو راوی، ستلج اور جہلم ندیوں میں اچانک بہاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔پنجاب کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کتھیہ نے بتایا کہ وہ متعلقہ محکموں کے ذریعے ندی نالوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور ممکنہ گنجائش سے زیادہ بہاؤ کی صورت میں بروقت اقدمات کیے جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی محکمے الرٹ پر ہیں۔ آبپاشی، ریسکیو اور موسمیاتی اداروں نے فیلڈ ٹیمیں متحرک کر رکھی ہیںپنجاب میں ندی نالوں کی صفائی، بندشیں کھولنا اور بروقت نکاسی کے منصوبے زیرِ عمل ہیں۔عوام کو محتاط رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، خاص طور پر ندی کنارے گھروں سے دوری اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔یہ بارشوں کا نیا دور اور بھارت کی ممکنہ پانی ریلیز ایک اکٹھے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر حکومت وقت پر اقدامات نہ کرے، تو سنگین تباہی ممکن ہے۔ ضروری ہے کہ مقامی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے اور عوام شراکت داری سے کام کریں۔ بروقت پیش بندی، مربوط پلاننگ اور عوامی بیداری ہی اس ممکنہ بحران کو کم کرنے کی کلید ہو سکتی ہے۔

جسارت نیوز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان

وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان