ملک میں مزید بارش اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-08-26
اسلام آباد / لاہور (رپورٹ) پاکستان کے مختلف حصوں میں متوقع مزید بارشوں کے باعث دریاؤں اچانک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس پر وفاقی اور صوبائی حکام نے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے۔ ساتھ ہی اطلاعات ہیں کہ بھارت بھی اپنے ڈیمز سے اضافی پانی چھو ڑنے کا امکان رکھتا ہے، جس سے راوی، جہلم اور ستلج کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔ ماہر موسمیات، آبی ماہرین اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے مشترکہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ نہ صرف قدرتی بہاؤ میں اضافے بلکہ انسانی مداخلت کی وجہ سے نقصان کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی ڈی پی ڈی ایم اے نے متوقع موسم کے لحاظ سے آگاہی جاری کی ہے کہ آئندہ 12 سے 48 گھنٹے میں ملک کے شمالی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ سندھ اور کراچی میں بھی بارشوں کے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پنجاب میں مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت اپنی ڈیمز سے اضافی پانی چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو راوی، ستلج اور جہلم ندیوں میں اچانک بہاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔پنجاب کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کتھیہ نے بتایا کہ وہ متعلقہ محکموں کے ذریعے ندی نالوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور ممکنہ گنجائش سے زیادہ بہاؤ کی صورت میں بروقت اقدمات کیے جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی محکمے الرٹ پر ہیں۔ آبپاشی، ریسکیو اور موسمیاتی اداروں نے فیلڈ ٹیمیں متحرک کر رکھی ہیںپنجاب میں ندی نالوں کی صفائی، بندشیں کھولنا اور بروقت نکاسی کے منصوبے زیرِ عمل ہیں۔عوام کو محتاط رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، خاص طور پر ندی کنارے گھروں سے دوری اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔یہ بارشوں کا نیا دور اور بھارت کی ممکنہ پانی ریلیز ایک اکٹھے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر حکومت وقت پر اقدامات نہ کرے، تو سنگین تباہی ممکن ہے۔ ضروری ہے کہ مقامی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے اور عوام شراکت داری سے کام کریں۔ بروقت پیش بندی، مربوط پلاننگ اور عوامی بیداری ہی اس ممکنہ بحران کو کم کرنے کی کلید ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور