دنیا کو نئے اقوام متحدہ کی ضرورت ہے ؛حافظ نعیم الرحمان،فلسطین کا دو ریاستی حل مسترد
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
سٹی 42: جماعت اسلامی نے فلسطین کا دو ریاستی حل مسترد کردیا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مظلوموں کا مسئلہ حل نہیں کرتا ،اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا بھی تو عوام تمہیں نہیں چھوڑیں گے ، کوئی دو ریاستی حل نہیں ایک ہی ریاست ہے اور وہ فلسطین ہے ۔
کراچی میں غزہ یکجہتی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ غزہ میں بمباری ہورہی ہے، فلسطینی ڈٹ کرکھڑے ہیں،غزہ کے لوگ ظلم کاشکار ہیں، قربانیاں دےرہے ہیں،امت مسلمہ ڈٹ کرفلسطینیوں کاساتھ دے،اللہ تعالیٰ فلسطینیوں کو آزادی نصیب فرمائے،اللہ پاک حماس کو کامیابی نصیب فرمائے ۔
آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان؛ محکمہ موسمیات
حافظ نعیم الرحمان کاکہناتھا کہ اہل فلسطین دو سال سے مزاحمت کررہے ہیں ، یواین چارٹر کے مطابق کوئی قبضہ کرلے تو ہتھیار اٹھائے جاسکتے ہیں ، حماس نے یو این چارٹر کے مطابق ہتھیار اٹھائے ، حماس یو این چارٹر کے مطابق کام کر رہی ہے ، حکومت کو کہتا ہوں حماس کو تسلیم کرے اورپاکستان میں حماس کا دفتر کھولا جائے ۔
ان کاکہناتھا کہ اقوام متحدہ مظلوموں کا مسئلہ حل نہیں کرتا ، دنیا کو نئے اقوام متحدہ کی ضرورت ہے ، امریکا کی اجارہ داری میں اقوام متحدہ مسائل حل نہیں کرسکتا ،یو این کا نظام اقلیت کے مطابق چلتا ہے ،جو جمہوریت کی نفی ہے ۔ امیر جماعت اسلامی کاکہناتھا کہ حماس امت کے ماتھے کا جھومر ہے ،امریکا حماس کو دہشت گرد کہتا ہے اور اسرائیل کو طاقت فراہم کرتا ہے ، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا بھی تو عوام تمہیں نہیں چھوڑیں گے ، کوئی دو ریاستی حل نہیں ایک ہی ریاست ہے اور وہ فلسطین ہے ۔
وفاقی دارالحکومت میں دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے فلسطین کا دو ریاستی حل مسترد کردیا،ان کاکہناتھا کہ اسرائیل کو ناجائز طریقے سے مسلط کیا گیا ،اسرائیل کو جس نے تسلیم کیا ان کا راستہ بند کردیں گے ،یہ دہشتگرد اسرائیل امریکہ کو نظر نہیں آتا ،ان کاکہناتھا کہ دنیا کی طاقت بدل رہی ہے ،اس لئے کہتا ہوں فلسطینوں کے حق میں فیصلہ کرو ،مسلم ہو یا غیر مسلم انصاف کا حقدار ہے ،اہل اسلام خود کو تقسیم کرنا چھوڑ دو خود کو شیعہ سنی فرقوں میں تقسیم کرنا چھوڑ دو۔
آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ؛ پاکستان کیخلاف بھارت کی بیٹنگ جاری
ان کاکہناتھا کہ آپ 21،22 ، 23 کو مینار پاکستان پہنچیں ,آپ کراچی والوں کی شرکت ضروری ہے ,چہرے پارٹیوں نہیں بدلنی نظام بدلنا ہے ,میں آپ لوگوں کے لئے دعا کرتا ہوں آپکی شرکت قبول کرے ,7 اکتوبر جہدوجہد کا عنوان ہے گھروں سے نکلیں ,صبح گیارہ بجے جب پورا پاکستان باہر ہوگا تو پوری دنیا کو میسج ہوگا آزاد کرو فلسطین کو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی دو ریاستی حل اقوام متحدہ اسرائیل کو کے مطابق حل نہیں
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔