UrduPoint:
2026-07-24@06:35:07 GMT

قیدیوں کے تبادلے پر اسرائیل-حماس مذاکرات پیر کو متوقع

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

قیدیوں کے تبادلے پر اسرائیل-حماس مذاکرات پیر کو متوقع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اکتوبر 2025ء) اسرائیل اور حماس کے مابین یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات پیر کو متوقع، مصر

قیدیوں کے تبادلے پر اسرائیل-حماس مذاکرات پیر کو متوقع

مصر نے اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے نمائندوں کو پیر کے روز مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جن میں غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کے ممکنہ تبادلے پر بات چیت کی جائے گی۔

مصری وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ بالواسطہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے سے پیدا ہونے والی ’’علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفت میں تیزی‘‘ کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

(جاری ہے)

مذاکرات میں کئی متنازع امور زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔

حماس نے جمعے کی شب ٹرمپ کے منصوبے میں شامل اپنے غیر مسلح ہونے کے مطالبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تنظیم کے ذرائع کے مطابق یہ نکتہ اس کے لیے سب سے مشکل شرط ہے۔ مذاکرات میں ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے عملی نفاذ کے مراحل اور ان کے جغرافیائی و وقتی پہلوؤں پر بھی بات ہوگی۔

میڈیا رپورٹس میں مذاکرات کے مقام کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، ان میں سے کچھ نے غزہ کے قریب سینائی کے شہر العریش اور بعض نے شرم الشیخ کا نام لیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کو ایک بیان میں خبردار کیا، ’’حماس کو تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا، ورنہ تمام امکانات ختم ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں کسی تاخیر کو برداشت نہیں کروں گا اور نہ کسی ایسے نتیجے کو قبول کیا جائے گا جس میں غزہ دوبارہ خطرہ بنے۔

"

ذرائع کے مطابق حماس کا وفد اتوار کی شام قاہرہ پہنچے گا، جب کہ اسرائیلی ٹیم بھی ایک روز کے اندر مصر روانہ ہوگی۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ تمام زندہ اور ہلاک یرغمالیوں کی حوالگی پر اصولی طور پر آمادہ ہے لیکن یہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور زمینی حالات کی مناسبت پر منحصر ہے۔

اس وقت حماس کے قبضے میں 48 یرغمالی موجود ہیں، جن میں جرمن شہری بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی معلومات کے مطابق ان میں سے 20 زندہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا، ’’جیسے ہی حماس غزہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا کی متعین لائن پر رضامندی ظاہر کرے گی، جنگ بندی فوراً نافذ ہو جائے گی۔‘‘ ان کے مطابق اسرائیل نے پہلے ہی ابتدائی لائن کی منظوری دے دی ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ فوج غزہ کے اہم اسٹریٹیجک مقامات پر کنٹرول برقرار رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا، ’’حماس کو غیر مسلح کرنا اور علاقے کو عسکریت سے پاک کرنا ناگزیر ہے،خواہ سفارتی طریقے سے، یا فوجی کارروائی سے۔‘‘

نیتن یاہو نے ہفتے کو ایک ویڈیو بیان میں کہا، ’’ہم ایک بڑی کامیابی کے قریب ہیں۔ مجھے امید ہے کہ خدا کے فضل سے ہم آنے والے دنوں میں، عیدِ سوکوت کے دوران، تمام یرغمالیوں کی واپسی کی خوشخبری دے سکیں گے۔‘‘

یہودیوں کا تہوار سوکوت پیر کی شام سے شروع ہوگا اور 13 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قیدیوں کے کے مطابق نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم