UrduPoint:
2026-07-24@05:09:04 GMT

قیدیوں کے تبادلے پر اسرائیل-حماس مذاکرات پیر کو متوقع

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

قیدیوں کے تبادلے پر اسرائیل-حماس مذاکرات پیر کو متوقع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اکتوبر 2025ء) اسرائیل اور حماس کے مابین یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات پیر کو متوقع، مصر

قیدیوں کے تبادلے پر اسرائیل-حماس مذاکرات پیر کو متوقع

مصر نے اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے نمائندوں کو پیر کے روز مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جن میں غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کے ممکنہ تبادلے پر بات چیت کی جائے گی۔

مصری وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ بالواسطہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے سے پیدا ہونے والی ’’علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفت میں تیزی‘‘ کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

(جاری ہے)

مذاکرات میں کئی متنازع امور زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔

حماس نے جمعے کی شب ٹرمپ کے منصوبے میں شامل اپنے غیر مسلح ہونے کے مطالبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تنظیم کے ذرائع کے مطابق یہ نکتہ اس کے لیے سب سے مشکل شرط ہے۔ مذاکرات میں ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے عملی نفاذ کے مراحل اور ان کے جغرافیائی و وقتی پہلوؤں پر بھی بات ہوگی۔

میڈیا رپورٹس میں مذاکرات کے مقام کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، ان میں سے کچھ نے غزہ کے قریب سینائی کے شہر العریش اور بعض نے شرم الشیخ کا نام لیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کو ایک بیان میں خبردار کیا، ’’حماس کو تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا، ورنہ تمام امکانات ختم ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں کسی تاخیر کو برداشت نہیں کروں گا اور نہ کسی ایسے نتیجے کو قبول کیا جائے گا جس میں غزہ دوبارہ خطرہ بنے۔

"

ذرائع کے مطابق حماس کا وفد اتوار کی شام قاہرہ پہنچے گا، جب کہ اسرائیلی ٹیم بھی ایک روز کے اندر مصر روانہ ہوگی۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ تمام زندہ اور ہلاک یرغمالیوں کی حوالگی پر اصولی طور پر آمادہ ہے لیکن یہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور زمینی حالات کی مناسبت پر منحصر ہے۔

اس وقت حماس کے قبضے میں 48 یرغمالی موجود ہیں، جن میں جرمن شہری بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی معلومات کے مطابق ان میں سے 20 زندہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا، ’’جیسے ہی حماس غزہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا کی متعین لائن پر رضامندی ظاہر کرے گی، جنگ بندی فوراً نافذ ہو جائے گی۔‘‘ ان کے مطابق اسرائیل نے پہلے ہی ابتدائی لائن کی منظوری دے دی ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ فوج غزہ کے اہم اسٹریٹیجک مقامات پر کنٹرول برقرار رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا، ’’حماس کو غیر مسلح کرنا اور علاقے کو عسکریت سے پاک کرنا ناگزیر ہے،خواہ سفارتی طریقے سے، یا فوجی کارروائی سے۔‘‘

نیتن یاہو نے ہفتے کو ایک ویڈیو بیان میں کہا، ’’ہم ایک بڑی کامیابی کے قریب ہیں۔ مجھے امید ہے کہ خدا کے فضل سے ہم آنے والے دنوں میں، عیدِ سوکوت کے دوران، تمام یرغمالیوں کی واپسی کی خوشخبری دے سکیں گے۔‘‘

یہودیوں کا تہوار سوکوت پیر کی شام سے شروع ہوگا اور 13 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قیدیوں کے کے مطابق نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم